ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 42

اِذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ اَخُوۡکَ بِاٰیٰتِیۡ وَ لَا تَنِیَا فِیۡ ذِکۡرِیۡ ﴿ۚ۴۲﴾
تو اور تیرا بھائی میری آیات لے کر جائو اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔ En
تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا
En
اب تو اپنے بھائی سمیت میری نشانیاں ہمراه لئے ہوئے جا، اور خبردار میرے ذکر میں سستی نہ کرنا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

42۔ اب تم اور تمہارا بھائی دونوں میرے معجزات لے کر جاؤ اور میرے [28] ذکر میں کوتاہی نہ کرنا۔
[28] اللہ کے ذکر کا فائدہ:۔
پہلے صرف سیدنا موسیٰؑ کو یہی بات کہی تھی کہ فرعون کے پاس جاؤ کیونکہ اس نے سر اٹھا ہے۔ اب جب سیدنا ہارون ؑکو بھی نبوت عطا کر کے ان کا مددگار بنا دیا گیا تو ان دونوں سے وہی بات کہی گئی اور اب ان دونوں کو تاکید کی کہ میرے ذکر میں کوتاہی نہ کرنا کیونکہ اللہ کا ذکر ہی وہ چیز ہے جو اللہ والوں کی کامیابی کا ذریعہ اور دشمن کے مقابلہ میں بہترین ہتھیار ہے۔ اس سے اللہ کی طرف لو لگائے رکھنے اور اللہ پر بھروسہ کرنے کی صفت پیدا ہوتی ہے۔ پھر اس راہ میں جو مصائب پیش آئیں ان کو صبر و استقلال سے برداشت کرنے کی قوت پیدا ہوتی ہے۔