ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 24

اِذۡہَبۡ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ اِنَّہٗ طَغٰی ﴿٪۲۴﴾
فرعون کی طرف جا، بے شک وہ سرکش ہوگیا ہے۔ En
تم فرعون کے پاس جاؤ (کہ) وہ سرکش ہو رہا ہے
En
اب تو فرعون کی طرف جا اس نے بڑی سرکشی مچا رکھی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ اب تم فرعون کے پاس جاؤ (کیونکہ) وہ [19] سرکش ہو گیا ہے۔
[19] موسیٰؑ پہلے مدین سے مصر کو جا رہے تھے۔ راستہ میں یہ واقع پیش آگیا۔ آپ کو نبوت عطا کی گئی اور معجزات عطا کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب جاؤ اور جا کر مصر کے بادشاہ فرعون سے جا کر ٹکر لو۔ وہ اللہ کا نافرمان اور خدائی کا دعوے دار بنا بیٹھا ہے اس کو راہ راست کی دعوت دو۔ اور فرعون جیسے جابر اور قاہر بادشاہ سے مقابلہ کے لئے آپ کو جو سر و سامان عطا کیا گیا وہ صرف یہ دو معجزات تھے۔ اسی بات سے معلوم ہو جاتا ہے کہ انبیاء و رسل پر جو ذمہ داری ڈالی جاتی ہے وہ کس قدر گرانبار ہوتی ہے۔ اس حکم کے بعد آپ نے اپنے اہل و عیال سے کیا سلوک؟ اس بارے میں کتاب و سنت خاموش ہیں۔ اغلاب خیال یہی ہے کہ وہ اپنے ساتھ مصر لے گئے ہوں گے۔