ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 15

اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰی ﴿۱۵﴾
یقینا قیامت آنے والی ہے، میں قریب ہوں کہ اسے چھپا کر رکھوں، تاکہ ہر شخص کو اس کا بدلہ دیا جائے جو وہ کوشش کرتا ہے۔ En
قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس (کے وقت) کو پوشیدہ رکھوں تاکہ ہر شخص جو کوشش کرے اس کا بدلا پائے
En
قیامت یقیناً آنے والی ہے جسے میں پوشیده رکھنا چاہتا ہوں تاکہ ہر شخص کو وه بدلہ دیا جائے جو اس نے کوشش کی ہو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

15۔ قیامت یقیناً آنے والی ہے میں اسے ظاہر [11] کرنے ہی والا ہوں تاکہ ہر شخص اپنی کوشش کا بدلہ پائے۔
[11] خفی کا لغوی مفہوم:۔
اخفها خفی کا معروف معنی چھپنا اور پوشیدہ ہونا ہے اور اخفی کا معنی چھپانا۔ اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہو گا۔ ”میں اسے چھپائے ہوئے ہوں“ پھر یہ لفظ لغت ذوی الاضداد سے بھی ہے۔ جس کا معنی ہے ظاہر کر دینا، کہتے ہیں خفی المظر القارۃ، یعنی بارش نے چوہے کو بل سے نکال کر ظاہر کر دیا یا بے نقاب گویا ہم نے دوسرے معنی کو اس لئے ترجیح دی ہے کہ اس سے مطلب زیادہ واضح ہوتا ہے۔ گویا جو آواز اس میدان میں آرہی تھی وہ اللہ کی طرف سے وحی ہو رہی تھی اور قرآن کی صراحت کے مطابق اللہ کا بندے سے ہم کلام ہونا بھی وحی ہی کی تین قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ آپ گئے تو تھے آگ لینے کو اور اللہ کی مہربانی یہ ہوئی کہ آپ کو پیغمبری عطا ہو گئی اور کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ حتیٰ کہ سیدنا موسیٰؑ کو خود بھی پہلے علم نہ تھا کہ آپ کو نبوت عطا ہونے والی ہے اور اس وحی میں آپ کو سب سے پہلے دین کی نہایت اہم اور بنیادی باتیں بتلائی گئیں۔
اسلام کی بنیادی تعلیمات:۔
پہلی یہ کہ اللہ ہی اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔ یہ کائنات از خود ہی وجود میں نہیں آ گئی۔ دوسری یہ کہ اس کائنات کی تخلیق و تملیک میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں۔ تیسری یہ کہ اس باتوں کے نتیجہ میں عبادت کا وہ اکیلا ہی مستحق ہے اور نماز اللہ سے تعلق قائم رکھنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ لہٰذا اللہ کو یاد رکھنے کے لئے نماز قائم کرنا ضروری ہے۔ اس سے کبھی غفلت نہ کرنا چاہئے اور اگر بھول جائے تو جب یاد آئے نماز ادا کرنا ضروری ہے اور چوتھی یہ ہے کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے اور جلد ہی آنے والی ہے۔ تاہم اس کا معین وقت بتلانا خلاف مصلحت ہے اور قیامت قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو اس کے اچھے یا برے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے۔ یہ وہ اصول دین ہیں جو سیدنا آدمؑ سے لے کر نبی آخر الزمان تک تمام انبیاء و رسل کو وحی کئے جاتے رہے اور ان میں کبھی تغیر و تبدل واقع نہیں ہوا۔