اور اگر ہم انھیں اس سے پہلے کسی عذاب کے ساتھ ہلاک کر دیتے تو یہ لوگ ضرور کہتے اے ہمارے رب! تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ہوں اور رسوا ہوں۔
En
اور اگر ہم ان کو پیغمبر (کے بھیجنے) سے پیشتر کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو وہ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے تیرے کلام (واحکام) کی پیروی کرتے
اور اگر ہم اس سے پہلے ہی انہیں عذاب سے ہلاک کر دیتے تو یقیناً یہ کہہ اٹھتے کہ اے ہمارے پروردگار تو نے ہمارے پاس اپنا رسول کیوں نہ بھیجا؟ کہ ہم تیری آیتوں کی تابعداری کرتے اس سے پہلے کہ ہم ذلیل ورسوا ہوتے
En
134۔ اور اگر ہم انھیں اس سے پیشتر عذاب سے ہلاک کر دیتے تو وہ یہ کہہ سکتے تھے کہ ”ہمارے پروردگار! تو نے ہمارے پاس رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل و رسوا ہونے سے [102] پہلے ہی تیری آیات کی پیروی کر لیتے۔
[102] یعنی یہ قرآن بھی بطور حجت اور کافروں کا یہ اعتراض رفع کرنے کے لئے اتارا گیا ہے کہ اگر ہم پر بھی یہود و نصاریٰ کی طرف اللہ کی طرف سے ہدایت کی کوئی کتاب نازل ہوتی تو ہم یقیناً ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے۔ نیز ہم نے ان میں رسول اس لئے بھی بھیجا ہے کہ وہ ذلت و رسوائی کے بعد یہ نہ کہنے لگیں کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول آتا تو ہم یقیناً اس کی فرمانبرداری کرتے۔ اللہ کے احکام بجا لاتے اور ہمیں یہ رسوائیاں نہ دیکھنا پڑتیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔