ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 115

وَ لَقَدۡ عَہِدۡنَاۤ اِلٰۤی اٰدَمَ مِنۡ قَبۡلُ فَنَسِیَ وَ لَمۡ نَجِدۡ لَہٗ عَزۡمًا ﴿۱۱۵﴾٪
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آدم کو اس سے پہلے تاکید کی، پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں ارادے کی کچھ پختگی نہ پائی۔ En
اور ہم نے پہلے آدم سے عہد لیا تھا مگر وہ (اسے) بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا
En
ہم نے آدم کو پہلے ہی تاکیدی حکم دیا تھا لیکن وه بھول گیا اور ہم نے اس میں کوئی عزم نہیں پایا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

115۔ اور اس سے بیشتر ہم نے آدم سے ایک عہد لیا تھا مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس کا ایسا عزم [83] نہ پایا۔
[83] بھول چوک انسان کی فطرت میں شامل ہے ‘سیدنا آدمنے بھول کرغلطی کی تھی:۔
یہاں سیدنا آدمؑ کے بھولنے کا ذکر، ذکر کی مناسبت سے فرمایا۔ یعنی چونکہ بھول جانا انسان کی فطرت میں داخل ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ذکر یا یاددہانی نازل کی جاتی رہی ہے۔ اور اس فطرت انسان کا آغاز ان کے باوا آدم سے ہی ہو گیا تھا۔ ان کا عزم اتنا مضبوط نہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ سے کئے ہوئے عہد کو یاد رکھتے۔ چنانچہ ایک طویل مدت کے بعد جب کہ سیدنا آدم ؑ اس عہد کو بھول ہی چکے تھے۔ شیطان کا داؤ چل گیا اور آپ شیطان کے فریب میں آگئے۔ اس مطلب سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بھول چوک انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ یہی بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بھول چوک کر اللہ کی نافرمانی کی تھی۔ ان کا ارادہ نافرمانی کا ہرگز نہیں تھا۔ اور اس مطلب کا نتیجہ آدمؑ کی سرکشی سے بریت ہے۔ ربط مضمون کے لحاظ سے پہلا مطلب ہی درست معلوم ہوتا ہے۔