ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 110

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِہٖ عِلۡمًا ﴿۱۱۰﴾
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ علم سے اس کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ En
جو کچھ ان کے آگے ہے اور کچھ ان کے پیچھے ہے وہ اس کو جانتا ہے اور وہ (اپنے) علم سے خدا (کے علم) پر احاطہ نہیں کرسکتے
En
جو کچھ ان کے آگے پیچھے ہے اسے اللہ ہی جانتا ہے مخلوق کا علم اس پر حاوی نہیں ہو سکتا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

110۔ وہ لوگوں کا اگلا پچھلا حال [79] سب کچھ جانتا ہے لیکن دوسرے لوگ اسے نہیں جان سکتے
[79] سفارش کا عوامی عقیدہ لغو ہے:۔
اس آیت میں سفارش پر عائد کردہ پابندیوں کی وجہ بیان فرما دی گئی ہے کہ لوگوں کے اعمال اور ان کے حالات جن میں وہ اعمال سرزد ہوئے اور ان کی نیتوں کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ دوسرے کسی کو نہیں ہو سکتا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک شخص کسی افسر کو جا کر کہے کہ آپ کا فلاں ماتحت آدمی میرا دوست ہے لہٰذا اس کا فلاں قصور معاف کر دیجئے تو وہ جواب میں کہے گا کہ آپ واقعی میرے دوست ہیں لیکن یہ شخص پہلے جتنے قصور کر چکا اس کا آپ کو علم ہے؟ اس کا ریکارڈ پہلے ہی بہت گندا ہے۔ لہٰذا اسے معاف کرنا بھی ظلم کے مترادف ہے۔ بالکل یہی اصول وہاں بھی کارفرما ہو گا یہ ممکن نہ ہو گا کہ کوئی بزرگ اللہ کے حضور یوں سفارش کرنے لگیں کہ حضور اسے معاف فرما دیں کیونکہ یہ میرا خاص آدمی ہے۔ اس طرح سفارش کے اس عقیدہ کی جڑ کٹ جاتی ہے جو عام لوگوں نے اپنی معبودوں یا پیروں سے وابستہ کر رکھا ہے کہ وہ چونکہ اللہ مقرب ہیں لہٰذا سفارش کر کے ہمیں بچا لیں گے۔