ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ طه (20) — آیت 104

نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ اِذۡ یَقُوۡلُ اَمۡثَلُہُمۡ طَرِیۡقَۃً اِنۡ لَّبِثۡتُمۡ اِلَّا یَوۡمًا ﴿۱۰۴﴾٪
ہم زیادہ جاننے والے ہیں جو کچھ وہ کہہ رہے ہوں گے، جب ان کا سب سے اچھے طریقے والا کہہ رہا ہوگا کہ تم ایک دن کے سوا نہیں ٹھہرے۔ En
جو باتیں یہ کریں گے ہم خوب جانتے ہیں۔ اس وقت ان میں سب سے اچھی راہ والا (یعنی عاقل وہوشمند) کہے گا کہ (نہیں بلکہ) صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو
En
جوکچھ وه کہہ رہے ہیں اس کی حقیقت سے ہم باخبر ہیں ان میں سب سے زیاده اچھی راه واﻻ کہہ رہا ہو گا کہ تم تو صرف ایک ہی دن رہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

104۔ ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ وہ کہیں گے۔ جبکہ ان میں سے بہتر رائے والا [73] یہ کہے گا کہ تم تو بس دنیا میں ایک ہی دن ٹھہرے تھے۔
[73] یہاں ٹھہرنے سے مراد دنیا کی زندگی بھی ہو سکتی ہے اور برزخ کی زندگی بھی۔ انسان کی عادت ہے کہ اسے خوشی کے لمحات قلیل بھی نظر آتے ہیں اور قریب بھی۔ بیسیوں برس پہلے کے واقعات اسے یوں معلوم ہوتے ہیں جیسے کل کی بات ہے اور قیامت کے دہشت ناک احوال دیکھ کر یہ تصور اور بھی بڑھ جائے گا کوئی اس زندگی کو ہفتہ عشرہ قرار دے گا اور جو سب سے زیادہ سمجھدار ہو گا وہ پہلے کی تردید کرتے ہوئے اس زندگی کو صرف ایک دن کی زندگی بتلائے گا۔