پھر تم ہی وہ لوگ ہو کہ اپنے آپ کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکالتے ہو، ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد گناہ اور زیادتی کے ساتھ کرتے ہو، اور اگر وہ قیدی ہو کر تمھارے پاس آئیں تو ان کا فدیہ دیتے ہو، حالانکہ اصل یہ ہے کہ ان کا نکالنا تم پر حرام ہے، پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تو اس شخص کی جزا جو تم میں سے یہ کرے اس کے سوا کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسوائی ہو اور قیامت کے دن وہ سخت ترین عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جوتم کرتے ہو۔
En
پھر تم وہی ہو کہ اپنوں کو قتل بھی کر دیتے ہو اور اپنے میں سے بعض لوگوں پر گناہ اور ظلم سے چڑھائی کرکے انہیں وطن سے نکال بھی دیتے ہو، اور اگر وہ تمہارے پاس قید ہو کر آئیں تو بدلہ دے کر ان کو چھڑا بھی لیتے ہو، حالانکہ ان کا نکال دینا ہی تم کو حرام تھا۔ (یہ) کیا (بات ہے کہ) تم کتابِ (خدا) کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو، تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیئے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو، خدا ان سے غافل نہیں
لیکن پھر بھی تم نے آپس میں قتل کیا اورآپس کے ایک فرقے کو جلا وطن بھی کیا اور گناه اور زیادتی کے کاموں میں ان کے خلاف دوسرے کی طرفداری کی، ہاں جب وه قیدی ہو کر تمہارے پاس آئے تو تم نے ان کے فدیے دیئے، لیکن ان کا نکالنا جو تم پر حرام تھا (اس کا کچھ خیال نہ کیا) کیا بعض احکام پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ تم میں سے جو بھی ایسا کرے، اس کی سزا اس کے سوا کیا ہو کہ دنیا میں رسوائی اور قیامت کے دن سخت عذاب کی مار، اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے بےخبر نہیں
En
85۔ پھر تم ہی وہ لوگ ہو جو اپنوں کو قتل کرتے ہو اور اپنے ہی لوگوں میں سے کچھ لوگوں کو ان کے گھروں سے جلا وطن کر دیتے ہو۔ پھر از راہ ظلم و زیادتی ان کے خلاف چڑھ چڑھ کر آتے ہو۔ اور اگر وہ لوگ قیدی بن کر آ جائیں تو ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں چھڑا لیتے ہو۔ [97] حالانکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام تھا۔ کیا تم کتاب کے بعض احکام مانتے ہو اور بعض کا انکار کر دیتے ہو؟ بھلا جو لوگ ایسے کام کریں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دنیا میں ذلیل [98] و خوار ہوں اور قیامت کے دن وہ سخت عذاب کی طرف دھکیل دیئے جائیں؟ اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں
[97] مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے بیشتر مشرکین مدینہ کے دو مشہور قبائل اوس اور خزرج مدینہ میں آباد تھے اور یہ آپس میں ہمیشہ لڑتے رہتے تھے اور یہود مدینہ کے دو قبائل بنو قریظہ اور بنو نضیر ان عرب قبائل کے حلیف بن کر ان کو باہم لڑاتے رہنے کا کردار ادا کیا کرتے تھے۔ بنو قریظہ تو قبیلہ اوس کے حلیف تھے اور بنو نضیر قبیلہ خزرج کے۔ یہود گو تعداد میں کم تھے مگر یہ مالدار قوم تھی اور اوس و خزرج کو لڑا کر اپنا سیاسی تفوق بھی برقرار رکھتے تھے اور اسلحہ بھی بیچتے تھے۔ جس کے یہ تاجر تھے۔ ان یہود کی بالکل وہی مثال سمجھئے جو آج سے کچھ مدت پیشتر روس اور امریکہ کی تھی۔ یہ دونوں طاقتیں اسلام کی دشمن تھیں اور آپس میں بھی ان میں اختلاف تھا لیکن اسلام دشمنی میں دونوں متحد ہو کر مسلمان ممالک کو آپس میں لڑاتی رہتی تھیں۔ ان میں سے کوئی ایک، ایک مسلمان ملک کا حلیف بن جاتا اور دوسرا دوسرے کا۔ اس طرح یہود کئی طرح کے فوائد اٹھاتے تھے۔ ان کا اسلحہ بھی فروخت ہوتا تھا اور سیاسی تفوق بھی برقرار رہتا تھا۔
یہود کا اپنے قبیلہ کے قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانا:۔
اللہ تعالیٰ نے یہود سے چار عہد لیے تھے (1) وہ ایک دوسرے کا خون نہ کریں گے (2) ایک دوسرے کو جلا وطن نہ کریں گے (3) ظلم اور زیادتی پر مدد نہ کریں گے (4) اور فدیہ دے کر قیدیوں کو چھڑایا کریں گے۔ اب قبیلہ اوس و خزرج کی جنگ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر بھی آپس میں حلیف ہونے کی حیثیت سے لڑتے اور ایک دوسرے کے گلے کاٹتے تھے۔ اب ایک جنگ میں مثلاً اوس اور بنو قریظہ کو فتح ہوئی تو لازماً بنو نضیر کے قیدی بھی ان کے ہاتھ آتے تھے اور بنو نضیر ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں چھڑا لیتے تھے۔ جب ان سے اس کی وجہ پو چھی جاتی تو کہتے کہ قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانا اللہ کا حکم ہے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ ان سے جو جنگ کرتے ہو تو وہ اللہ کے کس حکم کے تحت کرتے ہو؟ تو کہتے کیا کریں اپنے دوستوں (حلیفوں) کو ذلیل نہیں کر سکتے۔ گویا تین کام تو اللہ کے حکم کے خلاف کرتے تھے اور ایک کام اللہ کے حکم کے مطابق جس کا سبب بھی وہ خود ہی بنتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی حرکات پر گرفت کرتے ہوئے فرمایا کہ ”کیا تم اللہ کی کتاب کے کچھ حصے پر ایمان لاتے ہو اور کچھ حصے کا انکار کر دیتے ہو؟“ جس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی شخص بعض احکام شرعیہ کی تعمیل کرے اور جو حکم اس کی طبیعت یا عادت یا مرضی کے خلاف ہو اس کو چھوڑ دے تو بعض احکام کی تعمیل اسے کچھ فائدہ نہیں دے سکتی اور ایسا انکار در اصل پوری کتاب اللہ کا انکار ہوتا ہے۔ ایسے لوگ حقیقتاً اپنے نفس کے پیرو کار ہوتے ہیں۔ کتاب اللہ کے نہیں ہوتے۔
دور نبوی میں یہود کا انجام:۔
دنیا میں یہ یہود عبرتناک انجام سے دو چار ہوئے۔ بنو نضیر تو 4ھ میں اس ذلت سے دو چار ہوئے جس کا تفصیلی ذکر سورۃ حشر میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کر لیا اور ان کے بعض باغات کو نذر آتش کر دیا۔ اور وہ قلعہ بند ہو کر اپنے گھروں کو خود بھی برباد اور توڑ پھوڑ رہے تھے۔ کیونکہ انہیں اس بات کا یقین ہو چکا تھا کہ اب جلا وطنی ان کا مقدر بن چکی ہے اور وہ یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ مسلمان ان کے تعمیر شدہ مکانات سے فائدہ اٹھائیں۔ اس طرح لڑائی کے بغیر ہی انہوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ انہیں فوری جلا وطنی کا حکم دیا گیا تو انہوں نے شام کا رخ کیا اور جزیہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ان سے جزیہ وصول کیا جاتا رہا اور بنو قریظہ پر جنگ خندق [احزاب 5ھ] کے فوراً بعد چڑھائی کی گئی اور ان کے مردوں کو تہ تیغ کر دیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا گیا، اور آخرت کو جو عذاب انہیں ہو گا وہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں