ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 59

فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿٪۵۹﴾
پھر ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا تھا، آسمان سے ایک عذاب نازل کیا، اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ En
تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے
En
پھر ان ﻇالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ﻇالموں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ مگر ان ظالموں نے وہ بات ہی بدل دی جو ان سے کہی گئی تھی۔ سو ہم نے ان ظالموں پر ان کی نافرمانیوں کی بنا پر آسمان [75] سے عذاب نازل کیا
[75] بنی اسرائیل کا فتح کے وقت تکبر:۔
مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر اس کے بالکل الٹ کام کیے۔ بستی میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہونے کے بجائے اکڑتے ہوئے اور سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور توبہ و استغفار کرنے کے بجائے دنیوی مال و دولت کے پیچھے پڑ گئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ”بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھک کر داخل ہونا اور زبان سے «حطة» (یعنی گناہوں کی بخشش مانگنا) لیکن وہ اپنی سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور «حِطَّةٌ» کے بجائے «حَبَّةٌ فى شعرة» (دانہ بالی کے اندر) کہنے لگے۔ [بخاري، كتاب التفسير] اور مسلم میں «حبة فى شعرة» کے بجائے «حنطة فى شعرة» (گندم اپنی بالی کے اندر) کے الفاظ ہیں۔ [مسلم، كتاب التفسير]
طاعون کا عذاب:۔
بنی اسرائیل جب شہر پر قابض ہوئے وہاں بد کاریاں شروع کر دیں جس کی سزا اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ دی کہ آسمان سے عذاب (طاعون کی وبا کی صورت میں) نازل فرمایا جس کے نتیجہ میں ایک روایت کے مطابق ستر ہزار یہود مر گئے۔