ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 55

وَ اِذۡ قُلۡتُمۡ یٰمُوۡسٰی لَنۡ نُّؤۡمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَ اَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ ﴿۵۵﴾
اور جب تم نے کہا اے موسیٰ! ہم ہرگز تیرا یقین نہ کریں گے، یہاں تک کہ ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ لیں، تو تمھیں کڑک نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ En
اور جب تم نے (موسیٰ) سے کہا کہ موسیٰ، جب تک ہم خدا کو سامنے نہ دیکھ لیں گے، تم پر ایمان نہیں لائیں گے، تو تم کو بجلی نے آ گھیرا اور تم دیکھ رہے تھے
En
اور (تم اسے بھی یاد کرو) تم نے (حضرت) موسیٰ ﴿علیہ السلام﴾ سے کہا تھا کہ جب تک ہم اپنے رب کو سامنے نہ دیکھ لیں ہرگز ایمان نہ ﻻئیں گے (جس گستاخی کی سزا میں) تم پر تمہارے دیکھتے ہوئے بجلی گری En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب تم نے موسیٰ سے کہا کہ: ”ہم تو جب تک اللہ کو علانیہ دیکھ نہ لیں تمہاری بات نہیں مانیں گے۔“ [71] پھر تمہارے دیکھتے ہی دیکھتے تم پر بجلی گری (جس نے تمہیں ختم کر دیا)
[71] یہ بنی اسرائیل کے لوگ کچھ ایسے بد نہاد واقع ہوئے تھے کہ موسیٰؑ کی زبان پر بھی اعتبار نہیں کرتے تھے۔ جب موسیٰؑ تورات لے کر کوہ طور سے واپس لوٹے اور قوم کے سامنے کتاب پیش کی تو کہنے لگے۔ ہمیں یہ کیسے معلوم ہو کہ یہ کتاب واقعی منزل من اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ فی الواقع آپ سے ہم کلام ہوا تھا۔ اس صورت حال سے موسیٰؑ سخت پریشان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ ستر آدمیوں کو بھی اپنے ساتھ طور پہاڑ پر لے آؤ۔ چنانچہ موسیٰؑ نے اپنی قوم سے ستر آدمی منتخب کئے اور انہیں اپنے ہمراہ طور پر لے گئے کہ وہ خود بقائمی ہوش و حواس کلام الٰہی کو سن لیں۔ پھر جب انہوں نے کلام الٰہی سن لیا تو کہنے لگے: ”موسیٰ پردے میں سننے کا ہمیں کچھ اعتبار نہیں اور ہم تو جب تک اللہ کو صاف صاف دیکھ نہ لیں، تمہاری بات پر اعتبار نہیں کریں گے۔“
منتخب ستر آدمیوں کی موت اور دوبارہ زندگی:۔
اب یہ تو ظاہر ہے کہ ان کا یہ مطالبہ ناقابل عمل اور انتہائی جہالت پر مبنی تھا۔ موسیٰؑ جب خود بھی اللہ کی تجلی کی تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو کر گر گئے تھے، اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو گیا تھا۔ تو بھلا یہ کس کھیت کی مولی تھے۔ ان کے اس مطالبہ پر ان پر بجلی گری شاید یہ بھی اللہ کی تجلی ہی کی کوئی صورت ہو، اور آن کی آن میں انہیں بھسم کر ڈالا۔