ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 35

وَ قُلۡنَا یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ وَ کُلَا مِنۡہَا رَغَدًا حَیۡثُ شِئۡتُمَا ۪ وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۵﴾
اور ہم نے کہا اے آدم! تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور دونوں اس میں سے کھلا کھائو جہاں چاہو اور تم دونوں اس درخت کے قریب نہ جانا، ورنہ تم دونوں ظالموں سے ہو جاؤ گے۔ En
اور ہم نے کہا کہ اے آدم تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور جہاں سے چاہو بے روک ٹوک کھاؤ (پیو) لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
En
اور ہم نے کہہ دیا کہ اے آدم! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو، لیکن اس درخت کے قریب بھی نہ جانا ورنہ ﻇالم ہوجاؤ گے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ پھر ہم نے آدم [48] سے کہا کہ: تم اور تمہاری [49] بیوی دونوں جنت میں آباد ہو جاؤ [50] اور جہاں سے چاہو (اسکے پھل) جی بھر کے کھاؤ۔ البتہ اس درخت [51] کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم دونوں [52] ظالموں میں شمار ہو گے
[48] آدمؑ اور نظریہ ارتقاء:۔
واضح رہے کہ آدمؑ سلسلہ ارتقاء کی کڑی نہیں جیسا کہ آج کل ڈارون کا نظریہ ارتقاء کالجوں وغیرہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ انسان بندر کی اولاد یا اس کا چچیرا بھائی ہے۔ جب کہ آدمؑ کا پتلا اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا [38: 75] پھر اس میں اپنی روح میں سے پھونکا [15: 19، 38: 72] اسی نفخ روح سے انسان میں فہم، قوت ارادہ و اختیار و تمیز و استنباط پیدا ہوئی، جو دوسری کسی مخلوق میں نہیں پائی جاتی۔
[49] حوا کی پیدائش پر ایک اعتراض اور اس کا جواب:۔
سیدہ حوا جنہیں سیدنا آدمؑ کی پسلی سے پیدا کیا گیا۔ بعض ”مساوات مرد و زن“ کو شریعت سے ثابت کر دکھانے والے حضرات یہ کہتے ہیں کہ سیدہ حوا کو بھی اسی مٹی یا مادہ سے پیدا کیا گیا جس سے سیدنا آدمؑ کو پیدا کیا گیا اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ ﴿خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا میں ھَا کی ضمیر مؤنث ہے۔ اگر حوا آدمؑ سے پیدا ہوتی تو ضمیر مذکر ہونی چاہئے تھی۔ یہ دلیل دو لحاظ سے غلط ہے۔ ایک اس لیے ''ھا'' کی ضمیر ﴿نَفْسٍ وَّاحِدَةٍ کی طرف ہے جو مونث ہے اور دوسرے اس لحاظ سے کہ: احادیث صریحہ میں موجود ہے کہ سیدہ حوا کو پسلی سے پیدا کیا گیا۔ لہٰذا اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ورنہ توڑ دو گے۔ پس اس سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔ [بخاري۔ كتاب الانبياء باب خلق آدم و ذريته] ﴿و قول اللّٰه تعالىٰ وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَليِٰٕكَةِ اِنِّيْ جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِيْفَةً
[50] جنت ارضی یا سماوی؟ یہ بحث بھی جاری ہے کہ یہ جنت ارضی تھی یا سماوی، بعض لوگ اسے ارضی سمجھتے اور اس کا مقام عدن یا فلسطین قرار دیتے ہیں۔ مگر ہمارے خیال میں یہ الجنہ وہی ہے جو مسلمانوں میں معروف ہے اور وہ اہل سنت کے عقیدہ کے مطابق پیدا کی جا چکی ہے۔ اس جنت میں آدمؑ و حوا کو آباد ہونے کا حکم دیا گیا تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ان کا اصل ٹھکانہ یہی ہے۔ تاہم یہاں آباد کرنے سے اس بات کا امتحان بھی مقصود تھا کہ آدمؑ (اور اسی طرح اس کی اولاد) شیطانی ترغیبات کے مقابلہ میں اللہ کی کس قدر اطاعت کرتے ہیں؟
[51] اس آزمائش کے لیے جنت سے ایک درخت کا انتخاب کیا گیا کہ اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا۔ اس کے علاوہ تم جنت کے تمام درختوں کے پھل کھا سکتے ہو۔ یہ شجرہ ممنوعہ گندم کا تھا، یا انگور کا یا کسی اور چیز کا؟ یہ بحث لاحاصل ہے اور پیش نظر مقصد کے لحاظ سے یہ بتانے کی ضرورت بھی نہ تھی۔
[52] ظلم کا لغوی مفہوم:۔
ظلم کا لغوی معنیٰ کسی چیز کو نا جائز طریقہ سے اس کے اصل مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا ہے اور یہ لفظ بہت وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ہر نا انصافی کی بات خواہ وہ حقوق اللہ سے تعلق رکھتی ہو یا حقوق العباد سے، ظلم ہے، بالفاظ دیگر ہر گناہ پر ظلم کے لفظ کا اور گنہگار پر ظالم کے لفظ کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ اس آیت میں ظلم سے مراد اللہ رب العزت کی نافرمانی بھی ہے اور اپنے نفس پر زیادتی بھی جس کی وجہ سے جنت سے نکلنا پڑا۔