ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 31

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسۡمَآءَ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمۡ عَلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ ۙ فَقَالَ اَنۡۢبِـُٔوۡنِیۡ بِاَسۡمَآءِ ہٰۤؤُلَآءِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۱﴾
اور آدم کو سب کے سب نام سکھلا دیے، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا،پھر فرمایا مجھے ان کے نام بتائو اگر تم سچے ہو ۔ En
اور اس نے آدم کو سب (چیزوں کے) نام سکھائے پھر ان کو فرشتوں کے سامنے کیا اور فرمایا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان کے نام بتاؤ
En
اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام نام سکھا کر ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا، اگر تم سچے ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ (اس کے بعد) اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے اسماء (نام یا صفات و خواص) [43] سکھا دیئے۔ پھر ان اشیاء کو فرشتوں کے روبرو پیش کر کے ان سے کہا کہ ”اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو مجھے ان اشیاء کے نام بتا دو“
[43] خلافت کے لئے ضروری شرط:۔
انسان کو فرشتوں سے جو زائد چیز ودیعت کی گئی تھی۔ وہ تھی زمین کی اشیاء کے نام، ان کے خواص، ان خواص کا علم ہونے سے آگے نامعلوم باتوں تک پہنچنے (تحقیق یا استنباط) کی قوت و استعداد، زمین میں نظام خلافت کے قیام کے لیے یہ قوت انتہائی ضروری تھی جو فرشتوں میں نہیں تھی۔