تیرے ذمے انھیں ہدایت دینا نہیں اور لیکن اللہ ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے سو تمھارے اپنے ہی لیے ہے اور تم خرچ نہیں کرتے مگر اللہ کا چہرہ طلب کرنے کے لیے اور تم خیر میں سے جو بھی خرچ کرو گے وہ تمھیں پورا ادا کیا جائے گا اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
En
(اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا،
انہیں ہدایت پر ﻻ کھڑا کرنا تیرے ذمہ نہیں بلکہ ہدایت اللہ تعالیٰ دیتا ہے جسے چاہتا ہے اور تم جو بھلی چیز اللہ کی راه میں دو گے اس کا فائده خود پاؤ گے۔ تمہیں صرف اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب کے لئے ہی خرچ کرنا چاہئے تم جو کچھ مال خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدلہ تمہیں دیا جائے گا، اور تمہارا حق نہ مارا جائے گا
En
272۔ لوگوں کو راہ راست پر لانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری [388] نہیں۔ بلکہ اللہ ہی جسے چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہارے اپنے ہی لیے ہے۔ اور جو تم خرچ کرتے ہو وہ اللہ ہی کی رضا کے لیے کرتے ہو۔ اور جو بھی مال و دولت تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی نہیں کی جائے گی
[388] صدقہ غیر مسلموں کو دینا درست ہے:۔
ابتدا مسلمان اپنے غیر مسلم رشتہ داروں اور دوسرے غیر مسلم محتاجوں کی مدد کرنے میں تامل کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ صرف مسلمان محتاجوں کی مدد کرنا ہی انفاق فی سبیل اللہ ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کے دلوں میں ہدایت اتار دینے کی ذمہ داری آپ پر نہیں۔ آپ نے حق بات پہنچا دی، آگے ان کو راہ راست سمجھا دینا اللہ کا کام ہے۔ رہا دنیوی مال و متاع سے ان کی حاجات پوری کرنا تو اللہ کی رضا کے لیے تم جس حاجت مند کی بھی مدد کرو گے اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔