ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 271

اِنۡ تُبۡدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ہِیَ ۚ وَ اِنۡ تُخۡفُوۡہَا وَ تُؤۡتُوۡہَا الۡفُقَرَآءَ فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ؕ وَ یُکَفِّرُ عَنۡکُمۡ مِّنۡ سَیِّاٰتِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۲۷۱﴾
اگر تم صدقے ظاہر کرو تو یہ اچھی بات ہے اور اگر انھیں چھپائو اور انھیں محتاجوں کو دے دو تو یہ تمھارے لیے زیادہ اچھا ہے اور یہ تم سے تمھارے کچھ گناہ دور کرے گا اور اللہ اس سے جو تم کر رہے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔ En
اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے
En
اگر تم صدقے خیرات کو ﻇاہر کرو تو وه بھی اچھا ہے اور اگر تم اسے پوشیده پوشیده مسکینوں کو دے دو تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال کی خبر رکھنے واﻻ ہے، En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

271۔ اگر تم اپنے صدقات کو ظاہر کرو تو بھی اچھا ہے لیکن اگر خفیہ طور [387] پر فقرا کو دو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے (ایسے صدقات تم سے) تمہاری بہت سی برائیوں کو دور کر دیں گے اور جو عمل تم کرتے ہو اللہ ان سے پوری طرح با خبر ہے
[387] اس آیت سے خفیہ صدقہ کی زیادہ فضیلت ثابت ہوئی، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بھی واضح ہوتا ہے۔
خفیہ صدقہ کی فضیلت:۔
1۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: جب اللہ نے زمین کو پیدا کیا تو وہ ہچکولے کھاتی تھی۔ پھر اللہ نے پہاڑ پیدا کئے اور کہا کہ اسے (زمین کو) تھامے رہو۔ چنانچہ وہ ٹھہر گئی۔ تب فرشتوں کو پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب ہوا اور کہنے لگے: پروردگار! تیری مخلوق میں سے کوئی چیز پہاڑوں سے بھی سخت ہے؟ فرمایا ہاں، لوہا ہے۔ فرشتے کہنے لگے، پروردگار کوئی چیز لوہے سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ”ہاں آگ ہے۔“ پھر وہ کہنے لگے: کوئی چیز آگ سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ہاں پانی ہے۔ وہ کہنے لگے: ”کوئی چیز پانی سے بھی سخت ہے؟“ فرمایا: ہاں ہوا ہے۔ پھر وہ کہنے لگے: کوئی چیز ہوا سے بھی سخت ہے؟ فرمایا: ہاں وہ آدمی جو اس طرح صدقہ دے کہ دائیں ہاتھ سے دے تو بائیں کو خبر تک نہ ہو۔ [ترمذي، ابواب التفسير، سورة الناس]
سات آدمی جنہیں قیامت کے دن سایہ نصیب ہو گا:۔
2۔ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) سات قسم کے آدمیوں کو اپنے عرش کے سایہ تلے جگہ دے گا۔ جس دن اس کے سایہ کے علاوہ اور کہیں سایہ نہ ہو گا۔ ایک انصاف کرنے والا حاکم۔ دوسرا وہ نوجوان جس نے اپنی جوانی عبادت میں گزاری، تیسرا وہ شخص جس کا دل مسجد سے لگا رہے۔ چوتھے وہ دو شخص جنہوں نے اللہ کی خاطر محبت کی۔ اللہ کی خاطر ہی مل بیٹھے اور اللہ کی خاطر ہی جدا ہوئے۔ پانچویں وہ مرد جسے کسی مرتبہ والی حسین و جمیل عورت نے (بد کاری کے لیے) بلایا اور اس نے کہا کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ چھٹے وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں یوں چھپا کر صدقہ دیا کہ داہنے ہاتھ نے جو صدقہ دیا بائیں ہاتھ کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ ساتویں وہ شخص جس نے خلوت میں اللہ کو یاد کیا اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ [بخاري، كتاب الاذان باب من جلس فى المسجد ينتظر الصلوة] تاہم بعض علماء کہتے ہیں کہ فرضی صدقہ یعنی زکوٰۃ وغیرہ تو اعلانیہ دینا چاہیے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو اور نفلی صدقہ بہرحال خفیہ دینا ہی بہتر ہے اور یہ تو واضح بات ہے کہ چھپا کر نیکی کرنے سے انسان کی اپنی اصلاح نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔