ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 27

الَّذِیۡنَ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَ اللّٰہِ مِنۡۢ بَعۡدِ مِیۡثَاقِہٖ ۪ وَ یَقۡطَعُوۡنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰہُ بِہٖۤ اَنۡ یُّوۡصَلَ وَ یُفۡسِدُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۲۷﴾
وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو، اسے پختہ کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور اس چیز کو قطع کرتے ہیں جس کے متعلق اللہ نے حکم دیا کہ اسے ملایا جائے اور زمین میں فساد کرتے ہیں، یہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ En
جو خدا کے اقرار کو مضبوط کرنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جس چیز (یعنی رشتہٴ قرابت) کے جوڑے رکھنے کا الله نے حکم دیا ہے اس کو قطع کئے ڈالتے ہیں اور زمین میں خرابی کرتے ہیں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
En
جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مضبوط عہد کو توڑ دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں کاٹتے اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

27۔ (یعنی) جو لوگ اللہ سے [35] عہد کو پختہ کرنے کے بعد اسے توڑ دیتے ہیں۔ اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے، انہیں قطع کرتے ہیں اور زمین میں فساد بپا کرتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں
[35] صلہ رحمی کی تاکید اور اقرباء سے حسن سلوک:۔
اس آیت میں فاسقوں کی پوری تعریف بیان فرما دی۔ یعنی ایک تو اللہ سے کیے ہوئے عہد «عهد الست بربكم» [172: 7] کو توڑ دیتے ہیں جو یہ تھا کہ ہم صرف اللہ ہی کی بندگی کریں گے اور دوسرے جن جن چیزوں، بالخصوص رشتوں ناطوں کو ملائے رکھنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا تھا وہ توڑ ڈالتے ہیں۔ پہلی قسم میں بندے اور اللہ کے درمیان تعلق کا ذکر ہے اور دوسری قسم میں بندے اور بندے کے درمیان تعلق کا۔ اگر ان دونوں قسم کے تعلقات کا لحاظ نہ رکھا جائے تو یہیں سے فساد کی جملہ اقسام پیدا ہو جاتی ہیں۔ قرابت داری توڑنا کتنا بڑا گناہ ہے۔ یہ درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ ساری مخلوق پیدا کر چکا تو رحم (مجسم بن کر) کھڑا ہو گیا اور پروردگار رحمٰن کی کمر تھام لی۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے پوچھا: ”کہو کیا بات ہے؟“ کہنے لگا: ”میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ لوگ مجھے کاٹ دیں گے (قرابت کا خیال نہ رکھیں گے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تو اس بات پر راضی نہیں کہ جو تجھے جوڑے گا میں بھی اسے جوڑوں گا اور جو تجھے قطع کرے گا تو میں بھی اسے قطع کروں گا۔“ رحم کہنے لگا: پروردگار میں اس پر راضی ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ”ایسا ہی ہو گا۔“ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے تھے کہ اگر تم چاہو تو اس حدیث کی تائید میں سورۃ محمد کی یہ آیت پڑھ لو۔
﴿ فَهَلْ عَسَيْتُمْ اِنْ تَوَلَّيْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَكُمْ [22: 47]
یعنی تم سے تو یہ امید ہے کہ اگر تمہیں حکومت مل جائے تو ملک میں فساد برپا کر دو اور ناطے کاٹ ڈالو۔ [بخاري، كتاب التفسير: تفسير۔ سورة محمد]