24۔ پھر اگر تم یہ کام نہ کر سکو اور یقیناً تم کر [28] بھی نہ سکو گے، تو پھر اس (دوزخ) کی آگ سے ڈر جاؤ [28۔ الف] جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے (وہ دوزخ کی آگ ایسے ہی) کافروں کے [29] لئے تیار کی گئی ہے
[28] جہنم کا ایندھن کون سی اشیاء ہوں گی؟ اللہ تعالیٰ کو پہلے ہی علم تھا کہ ایسا کلام پیش کرنا انسان کے بس سے باہر ہے اور یہ جو پانچ مرتبہ قرآن میں کفار کو چیلنج کیا گیا ہے تو یہ ان پر اتمام حجت کے لیے ہے کہ اگر ان واضح دلائل کے بعد کوئی کفر پر اڑا رہتا ہے تو اسے اس دوزخ کے عذاب سے ڈر جانا چاہیے۔ جس کا ایندھن انسان ہی نہیں معدنی پتھر (جیسے پتھری کوئلہ، گندھک) وغیرہ بھی ہوں گے جو آگ کی حدت کو بیسیوں گنا تیز کر دیتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ اس آیت میں حجارۃ سے مراد پتھر کے وہ بت ہیں جن کی پوجا کی جاتی رہی اور اس قول کی تائید اس آیت سے بھی ہو جاتی ہے۔ ﴿ اِنَّكُمْوَمَاتَعْبُدُوْنَمِنْدُوْنِاللّٰهِحَصَبُجَهَنَّمَ﴾[98: 21] ’تم بھی اور اللہ کے سوا جنہیں تم پوجتے ہو سب دوزخ کا ایندھن بنو گے۔ ‘ تاکہ کافروں کو اپنے معبودوں کی خدائی کی حقیقت معلوم ہو سکے اور ان کی حسرت میں مزید اضافہ ہو۔ [28۔ الف]
تقویٰ کا لغوی مفہوم:۔
اتقاء یا تقویٰ کا معنی اپنے اعمال کے انجام سے ڈر جانا ہے۔ اور اس کے مادہ وَقَیَ میں تین باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں: (1) ڈرنا۔ (2) بچنا۔ (3) پرہیز کرنا۔ گویا تقویٰ کے معنی اپنے نفس کو ہر اس چیز سے بچانا ہے جس سے نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو اور شرعی اصطلاح میں اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام تقویٰ ہے جو گناہ کا موجب ہو۔ اور جن امور سے شریعت نے منع کیا ہے انہیں چھوڑنے سے یہ بات حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر تقویٰ کا مفہوم محض نواہی کو چھوڑنے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ اوامر کی بجا آوری کو بھی اپنے اندر شامل کر لیتا ہے۔ کیونکہ جیسے بے حیائی کے کام کرنا گناہ ہے ویسے ہی نماز یا روزہ وغیرہ ادا نہ کرنا بھی گناہ ہے۔ اور تمام تر عبادات کا بنیادی مقصد انسان کے اندر تقویٰ پیدا کرنا ہے یعنی وہ ہر کام کے کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچتا ہے اور اس انجام کو ملحوظ رکھ کر اسے اختیار کرتا یا چھوڑتا ہے۔ اور چونکہ انجام سے دو چار کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے لہٰذاتقویٰ کے مفہوم میں گناہوں کے انجام سے ڈرنے اور بچنے کے ساتھ ساتھ اللہ سے ڈرنا اور ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا از خود شامل ہو جاتا ہے۔ [29] اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ وجود میں لائی جا چکی ہے (اور اسی طرح جنت بھی) اور یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ جبکہ بعض لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ جنت اور دوزخ عالم آخرت میں جزا و سزائے اعمال کے وقت تیار کئے جائیں گے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں