ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 239

فَاِنۡ خِفۡتُمۡ فَرِجَالًا اَوۡ رُکۡبَانًا ۚ فَاِذَاۤ اَمِنۡتُمۡ فَاذۡکُرُوا اللّٰہَ کَمَا عَلَّمَکُمۡ مَّا لَمۡ تَکُوۡنُوۡا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۳۹﴾
پھر اگر تم ڈرو تو پیدل پڑھ لو یا سوار، پھر جب امن میں ہو جائو تو اللہ کو یاد کرو جیسے اس نے تمھیں سکھایا ہے، جو تم نہیں جانتے تھے۔ En
اگر تم خوف کی حالت میں ہو تو پیادے یا سوار (جس حال میں ہو نماز پڑھ لو) پھر جب امن (واطمینان) ہوجائے تو جس طریق سے خدا نے تم کو سکھایا ہے جو تم پہلے نہیں جانتے تھے خدا کو یاد کرو
En
اگر تمہیں خوف ہو تو پیدل ہی سہی یا سوار ہی سہی، ہاں جب امن ہوجائے تو اللہ کا ذکر کرو جس طرح کہ اس نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی جسے تم نہیں جانتے تھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

239۔ اگر تم حالت خوف میں ہو تو خواہ پیدل ہو یا سوار [335] (تو جیسے ممکن ہو نماز ادا کر لو) مگر جب امن میسر آ جائے تو اللہ کو اسی طریقے سے یاد کرو جو اس [336] نے تمہیں سکھایا ہے جسے تم پہلے نہ جانتے تھے
[335] نماز خوف کے پڑھنے کا طریقہ:۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ ہم نماز خوف کیسے پڑھیں؟ تو وہ کہتے کہ امام آگے بڑھے، کچھ لوگ اس کے ساتھ نماز ادا کریں، امام انہیں ایک رکعت پڑھائے، باقی لوگ ان کے اور دشمنوں کے درمیان کھڑے رہیں۔ نماز نہ پڑھیں۔ جب یہ لوگ امام کے ساتھ ایک رکعت نماز پڑھ چکیں تو سرک کر پیچھے چلے جائیں اور جنہوں نے نماز نہیں پڑھی اب وہ لوگ آ جائیں اور امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھیں۔ امام تو اپنی نماز (دو رکعت) سے فارغ ہو گیا۔ اب یہ دونوں گروہ باری باری باقی ایک ایک رکعت پوری کر لیں تو ان کی بھی دو رکعت ہو گئیں، اور اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو پاؤں پر کھڑے پیدل یا سواری پر رہ کر نماز ادا کر لیں۔ منہ قبلہ رخ ہو یا کسی اور طرف۔ امام مالک کہتے ہیں کہ نافع نے کہا عبد اللہ بن عمرؓ نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔ [بخاري، كتاب التفسير]
[336] یعنی جب خوف کی حالت ختم ہو جائے تو نماز پوری اور با جماعت ادا کرو، جیسا کہ عام حالات میں پڑھا کرتے ہو۔ (سفر اور خوف کی نمازوں کی تفصیل کے لیے سورۃ نساء کی آیت نمبر 101 اور 102 کے حواشی نمبر 138 اور 139 ملاحظہ فرمائیے۔)