ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 238

حٰفِظُوۡا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الۡوُسۡطٰی ٭ وَ قُوۡمُوۡا لِلّٰہِ قٰنِتِیۡنَ ﴿۲۳۸﴾
سب نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے رہو۔ En
(مسلمانو) سب نمازیں خصوصاً بیچ کی نماز (یعنی نماز عصر) پورے التزام کے ساتھ ادا کرتے رہو۔ اور خدا کے آگے ادب سے کھڑے رہا کرو
En
نمازوں کی حفاﻇت کرو، بالخصوص درمیان والی نماز کی اور اللہ تعالیٰ کے لئے باادب کھڑے رہا کرو En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

238۔ اپنی سب [332] نمازوں کی محافظت کرو بالخصوص درمیانی نماز [333] کی اور اللہ کے حضور ادب [334] سے کھڑے ہوا کرو
[332] عائلی مسائل کے درمیان نماز کی تاکید سے متعلق جو دو آیات آ گئی ہیں تو ان کی غالباً حکمت یہ ہے کہ ایسے معاشرتی مسائل کو بحسن و خوبی سر انجام دینے کے لیے جس تقویٰ کی ضرورت ہوتی ہے نماز اس سلسلہ میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ اسی لیے نمازوں کی محافظت کی تاکید کی جا رہی ہے یعنی ہر نماز کو اس کے وقت پر اور پوری شرائط و آداب کے ساتھ ادا کیا جائے۔
[333] نماز وسطیٰ سے مراد نماز عصر ہے اور اس کی تاکید مزید:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کے دن فرمایا۔ ان کافروں نے مجھے درمیانی نماز نہ پڑھنے دی حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا۔ اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ [بخاري، كتاب التفسير] نیز حضرت ابن عباسؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ دونوں سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صلوٰۃ وسطیٰ نماز عصر ہے۔ [ترمذي۔ ابواب التفسير]
اور حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کی عصر کی نماز قضا ہو گئی اس کا گھر بار، مال و اسباب سب لٹ گیا۔“ [بخاري، كتاب مواقيت الصلٰوة، باب إثم من فاتته العصر] اور بالخصوص اس نماز کی تاکید اس لیے فرمائی کہ دنیوی مشاغل کے لحاظ سے یہ وقت بہت اہم ہوتا ہے۔
[334] نماز میں با ادب کھڑا ہونے کا حکم:۔
یعنی اللہ کے حضور عاجزی اور ادب کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ نیز ایسی کوئی فضول حرکت نہ کی جائے جو ادب کے خلاف ہو یا نماز کو توڑ ڈالنے والی ہو جیسے خواہ مخواہ یا عادتاً ہاتھوں کو حرکت دینا، ہلاتے رہنا یا ہنسنا یا بات چیت کر لینا وغیرہ۔ چنانچہ حضرت زید بن ارقمؓ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں باتیں کر لیا کرتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی۔ [بخاري، كتاب التفسير۔ زير آيت مذكوره] مسلم کی روایت میں اضافہ ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے بعد ہمیں حکم دیا گیا کہ چپ چاپ سکون سے کھڑے ہوں اور باتیں کرنے سے بھی منع کر دیا گیا [مسلم، كتاب المساجد۔ باب تحريم الكلام فى الصلوة]
2۔ حضرت جابر بن سمرہؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھتے تو نماز کے آخر میں دائیں بائیں السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارے کرتے ہو۔ جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تمہیں اتنا ہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں اور بائیں منہ موڑ کر السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہہ لیا کرو۔ [مسلم: كتاب الصلٰوة، باب الأمر بالسكون فى الصلوة والنهي عن الاشارة باليد.....]
صف درست کرنے اور مل کر کھڑا ہونے کا حکم:۔
حضرت جابرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میں تم کو اس طرح ہاتھ اٹھاتے دیکھ رہا ہوں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تم لوگ نماز میں کوئی حرکت نہ کیا کرو۔ پھر آپ نے ایک دفعہ حلقہ باندھے دیکھ کر فرمایا تم لوگ الگ کیوں ہو؟ پھر ایک مرتبہ آپ نے فرمایا صفیں اس طرح باندھا کرو۔ جیسے فرشتے بارگاہ الٰہی میں صف بستہ رہتے ہیں۔ سب سے پہلے اگلی صف پوری کیا کرو۔ اور صف میں خوب مل کر کھڑے ہوا کرو۔ [مسلم حواله ايضاً] البتہ کچھ کام ایسے ہیں جو حالت نماز میں بھی سر انجام دیئے جا سکتے ہیں۔ مثلاً:
1۔ اگر امام بھول جائے تو مقتدی سبحان اللہ کہہ سکتے ہیں اور اگر مقتدی عورت ہو تو وہ تالی بجا سکتی ہے۔ [بخاري۔ تصفيق النساء]
2۔ اگر قرأت کرتے ہوئے امام بھول جائے تو مقتدی بتلا سکتا یعنی لقمہ دے سکتا ہے۔
نماز کے دوران کون کون سے کام کرنا جائز یا ضروری ہیں:۔
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنی عمرو بن عوف کے لوگوں میں صلح کرانے گئے۔ ظہر کا وقت ہو گیا تو حضرت ابو بکر صدیقؓ نے نماز پڑھانا شروع کر دی۔ اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پہنچ گئے اور صفوں کو چیرتے ہوئے پہلی صف میں آ کھڑے ہوئے۔ صحابہؓ نے تالی بجائی جس سے حضرت ابو بکر صدیقؓ متوجہ ہوئے اور پیچھے کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف میں کھڑے تھے۔ آپ نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو نماز پڑھاتے رہنے کا اشارہ کیا۔ لیکن ابو بکر صدیقؓ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ کا شکر ادا کیا۔ پھر الٹے پاؤں پیچھے ہٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ پھر نماز کے بعد فرمایا کہ تالی بجانا عورتوں کے لیے ہے، مرد سبحان اللہ کہا کریں۔ [بخاري]
4۔ اگر گرمی کی وجہ سے زمین تپ رہی ہو تو نمازی اپنے سجدہ کی جگہ پر کپڑا بچھا سکتا ہے۔ [بخاري حواله ايضاً]
5۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رات کے وقت جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور میں اپنے پاؤں لمبے کئے ہوتی تو سجدہ کے وقت آپ مجھے ہاتھ لگاتے تو میں پاؤں سمیٹ لیتی۔ پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں پاؤں لمبے کر لیتی۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
6۔ ایک دفعہ حضرت ابن عباسؓ اپنی خالہ ام المومنین میمونہؓ کے ہاں رات رہے۔ انہی کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کو اٹھے، وضو کیا اور نماز میں کھڑے ہو گئے۔ یہ دیکھ کر حضرت ابن عباسؓ نے بھی وضو کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا کر بائیں طرف کھڑے ہو کر نماز میں شامل ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباسؓ کے سر پر ہاتھ رکھا، پھر دائیں کان کو مروڑا۔ پھر انہیں پکڑ کر پیچھے کی طرف سے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا۔ [بخاري، كتاب الاذان، باب اذا قام الرجل عن يسار الامام۔۔۔ الخ]
7۔ اگر نفلی نماز کے دوران والدہ یا والد پکارے تو نماز توڑ کر بھی ان کی بات سننا چاہیے [تفصيل كے ليے ديكهئے سورة انفال كي آيت نمبر 24 كا حاشيه]
8۔ ازرق بن قیس کہتے ہیں کہ ہم اہواز میں خارجیوں سے جنگ میں مصروف تھے کہ ایک صحابی ابو برزہ اسلمی اپنی گھوڑے کی لگام اپنے ہاتھ میں سنبھالے نماز پڑھنے لگے۔ گھوڑا لگام کھینچنے لگا اور ابو برزہ بھی ساتھ ساتھ پیچھے چلتے گئے۔ یہ دیکھ کر ایک خارجی کہنے لگا۔ یا اللہ بوڑھے کا ستیا ناس کر۔ جب ابو برزہ نماز سے فارغ ہوئے تو اس خارجی سے کہا کہ میں نے تمہاری بات سن لی ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات آٹھ جہاد کئے ہیں اور میں نے دیکھا کہ آپ لوگوں پر آسانی کیا کرتے تھے اور مجھے یہ اچھا معلوم ہوا کہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں، نہ کہ اس کو چھوڑ دوں کہ وہ جہاں چلا جائے اور میں مصیبت میں پڑ جاؤں۔ [بخاري، حواله ايضاً]
دین میں آسانی کی ایک مثال:۔
حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نماز شروع کرتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ اسے لمبا کروں، پھر میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ بچے کے رونے سے ماں کے دل پر کیسی چوٹ پڑتی ہے۔“ [بخاري، كتاب الاذان۔ باب من اخف الصلوة عند بكاء الصبي]
10۔ حضرت ابو قتادہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس حال میں آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نواسی امامہ بنت ابی العاص (حضرت زینب کی بیٹی) کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنا شروع کی جب رکوع کرتے تو امامہ کو زمین پر بٹھلا دیتے اور جب سجدہ سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اسے اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔ [بخاري: كتاب الادب، باب رحمه الولد و تقبيله و معانقة]
اور ایک دوسری روایت میں رکوع کے علاوہ سجدہ کا لفظ آیا ہے [بخاري: كتاب الصلوة، باب حمل جارية صغيرة على عنقه فى الصلوة]