ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 207

وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشۡرِیۡ نَفۡسَہُ ابۡتِغَآءَ مَرۡضَاتِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ رَءُوۡفٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۲۰۷﴾
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہے جو اللہ کی رضا مندی تلاش کرنے کے لیے اپنی جان بیچ دیتا ہے اور اللہ ان بندوں پر بے حد نرمی کرنے والا ہے۔ En
اور کوئی شخص ایسا ہے کہ خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور خدا بندوں پر بہت مہربان ہے
En
اور بعض لوگ وه بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی طلب میں اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑی مہربانی کرنے واﻻ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

207۔ اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان تک (کھپا دیتا) ہے۔ [275] اور (ایسے) بندوں پر اللہ بڑا مہربان ہے
[275] صہیب رومی کی فضیلت:۔
یعنی انسانوں میں کچھ اس قسم کے لوگ بھی موجود ہیں جو اللہ کی راہ میں اپنا جان و مال سب کچھ قربان کر دیتے ہیں۔ چنانچہ صہیب بن سنان رومیؓ اپنا وطن ترک کر کے ہجرت کی غرض سے مدینہ آرہے تھے کہ راستہ میں مشرکوں نے پکڑ لیا اور انہیں اسلام سے برگشتہ ہونے پر مجبور کیا۔ صہیبؓ کہنے لگے کہ میں اپنا گھر اور اپنا سارا مال تمہیں اس شرط پر دینے کو تیار ہوں کہ تم میری راہ نہ روکو اور مجھے مدینہ جانے دو۔ انہوں نے اس شرط پر آپ کو چھوڑ دیا اور صہیب رومیؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ ایسے ہی مخلص مومنوں کی تعریف میں یہ آیت نازل ہوئی۔ [الرحيق المختوم 246] ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صہیبؓ، حضرت بلالؓ اور سلمانؓ کے متعلق حضرت ابو بکرؓ سے فرمایا تھا۔ ”اگر تم نے ان کو ناراض کر دیا تو اپنے رب کو ناراض کر دیا۔“ [صحيح مسلم، كتاب الفضائل، باب فضائل سلمان]