ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 206

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُ اتَّقِ اللّٰہَ اَخَذَتۡہُ الۡعِزَّۃُ بِالۡاِثۡمِ فَحَسۡبُہٗ جَہَنَّمُ ؕ وَ لَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۲۰۶﴾
اور جب اس سے کہا جاتا ہے اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔ En
اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ خدا سے خوف کر تو غرور اس کو گناہ میں پھنسا دیتا ہے۔ سو ایسے کو جہنم سزاوار ہے۔ اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے
En
اور جب اس سے کہا جائے کہ اللہ سے ڈر تو تکبر اور تعصب اسے گناه پر آماده کر دیتا ہے، ایسے کے لئے بس جہنم ہی ہے اور یقیناً وه بد ترین جگہ ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

206۔ اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اس کا غرور [274] اسے گناہ پر جما دیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے
[274] یعنی اس کا پندار نفس یا انا اسے غرور و تکبر ہی کی راہ دکھلاتا ہے اور متکبرین کا ٹھکانا جہنم ہے۔ جیسا درج ذیل احادیث سے واضح ہے۔
تکبر کرنے والے کا حشر:۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پروردگار کے سامنے جنت اور دوزخ میں جھگڑا ہوا۔ جنت کہنے لگی، پروردگار! میرا تو یہ حال ہے کہ مجھ میں تو وہی لوگ آرہے ہیں جو دنیا میں ناتواں اور حقیر تھے اور دوزخ کہنے لگی کہ مجھ میں وہ لوگ آرہے ہیں جو دنیا میں متکبر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے اور دوزخ سے فرمایا تو میرا عذاب ہے۔ [بخاري، كتاب التوحيد، باب ماجاء فى قول الله ان رحمة الله قريب من المحسنين] اور ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ بہشتی کون ہیں اور دوزخی کون؟ جنتی ہر وہ کمزور اور منکسر المزاج ہے کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ اسے سچا کر دے اور دوزخی ہر موٹا، بد مزاج اور متکبر آدمی ہوتا ہے۔ [بخاري، كتاب الايمان، باب قول الله تعالىٰ آيت اقسموا بالله جهد ايمانهم]