ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 205

وَ اِذَا تَوَلّٰی سَعٰی فِی الۡاَرۡضِ لِیُفۡسِدَ فِیۡہَا وَ یُہۡلِکَ الۡحَرۡثَ وَ النَّسۡلَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الۡفَسَادَ ﴿۲۰۵﴾
اور جب واپس جاتا ہے تو زمین میں دوڑ دھوپ کرتا ہے، تاکہ اس میں فساد پھیلائے اور کھیتی اور نسل کو برباد کرے، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ En
اور جب پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے تو زمین میں دوڑتا پھرتا ہے تاکہ اس میں فتنہ انگیزی کرے اور کھیتی کو (برباد) اور (انسانوں اور حیوانوں کی) نسل کو نابود کردے اور خدا فتنہ انگیزی کو پسند نہیں کرتا
En
جب وه لوٹ کر جاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اور کھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ فساد کو ناپسند کرتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

205۔ اور جب وہ (ایسی چکنی چپڑی باتیں کرنے کے بعد) [273] لوٹتا ہے تو عملاً اس کی ساری تگ و دو یہ ہوتی ہے کہ زمین میں فساد مچائے اور کھیتی اور نسل (انسانی) کو تباہ کرے حالانکہ اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا (جسے وہ گواہ بنا رہا تھا)
[273] اخنس بن شریق ایک منافق تھا جو فصیح و بلیغ اور شیریں کلام تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی چکنی چپڑی باتیں بھلی معلوم ہوتیں۔ وہ بات بات پر اللہ کی قسم کھاتا اور بار بار اللہ کو گواہ بنا کر کہتا کہ وہ سچا مسلمان ہے اور مسلمانوں کا دلی دوست ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحیح صورت حال سے مطلع کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی باتوں پر فریفتہ مت ہونا، کیونکہ یہ سخت جھگڑا لو قسم کا انسان ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، وہ اسلام سے پھر کر مکہ واپس چلا گیا۔ راستہ میں مسلمانوں کے جو کھیت دیکھے انہیں جلا دیا اور جو جانور نظر آئے انہیں مار ڈالا۔