بجلی قریب ہے کہ ان کی نگاہیں اچک کر لے جائے، جب کبھی وہ ان کے لیے روشنی کرتی ہے اس میں چل پڑتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کر دیتی ہے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور ان کی سماعت اور ان کی نگاہیں لے جاتا، بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھیں اُچک لے جائے، جب ان کے لئے روشنی کرتی ہے تو اس میں چلتے پھرتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کرتی ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کے کانوں اور آنکھوں کو بیکار کردے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے واﻻ ہے
En
20۔ (ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ) عنقریب ہی بجلی ان کی بصارت کو اچک لے گی۔ جب بجلی کی چمک سے کچھ روشنی پڑتی ہے تو چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو ٹھہر جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ چاہتا تو (اس حال میں کڑک سے) ان کی سماعت کو اور (چمک سے) ان کی بصارت [25] کو سلب کر سکتا تھا، (کیونکہ) اللہ تعالیٰیقیناً ہر چیز پر قادر ہے
[25] منافقوں کی مثال (2) :۔
یہ ایک دوسری قسم کے منافقوں کی مثال بیان کی گئی ہے۔ پہلی قسم کے منافق تو وہ تھے جن کے دل میں کفر ہی کفر تھا۔ مگر مفاد پرستی کی خاطر مسلمانوں کے سامنے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے، اور یہ دوسری قسم ان منافقوں کی ہے جو شک اور تذبذب کا شکار ہیں۔ اس مثال میں زوردار مینہ سے مراد اسلامی احکامات کا نزول ہے جو پے در پے ہو رہے تھے اور جو جملہ انسانیت کے لیے رحمت ہی رحمت تھے اور اس میں تاریکیوں اور کڑک سے مراد وہ مصائب و مشکلات ہیں جو مسلمانوں کو اقامت دین کے سلسلہ میں پیش آ رہی تھیں اور چمک سے مراد وہ کامیابیاں اور کامرانیاں ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہو رہی تھیں۔ اب جب کوئی کڑک کی آواز یا مصیبت مسلمانوں کو درپیش ہوئی تو یہ منافق اپنی جان بچانے کی خاطر مسلمانوں سے الگ ہو کر حفاظتی اقدامات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اس صورت میں بھی ان کو ہلاک کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے اور مسلمانوں کی کامیابی اور ان کی مسلمانوں سے علیحدگی ہی ان کی موت کا باعث بن سکتی تھی۔ پھر جب معاملہ ذرا سہل ہو جاتا ہے اور مصائب چھٹ جاتے ہیں تو یہ لوگ اسلام کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں اور جب کوئی سخت احکام نازل ہوتے ہیں تو وہیں ٹھٹک کر کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر اللہ چاہتا تو پہلی قسم کے منافقوں کی طرح ان کی بصارت اور سماعت کو بھی سلب کر سکتا تھا۔ مگر اللہ کا قانون ہی یہ ہے کہ جو شخص جس حد تک دیکھنا اور سننا چاہتا ہے۔ اسے اس حد تک سننے اور دیکھنے دیا جائے، اگرچہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔
LIVE
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی لائیو نشریات
مسجد الحرام اور مسجد نبوی ﷺ سے براہ راست لائیو سٹریم دیکھیں