199۔ پھر وہاں سے واپس لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے [271] ہیں اور اللہ سے بخشش مانگتے رہو۔ اللہ تعالیٰیقیناً بڑا بخشنے والا نہایت رحم کرنے والا ہے۔
[271] حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ: قریش اور ان کے طریقہ پر چلنے والے لوگ (عرفات کے بجائے) مزدلفہ میں وقوف کیا کرتے تھے، ان لوگوں کو حمس کہتے تھے۔ جب کہ باقی عرب عرفات کا وقوف کرتے۔ جب اسلام کا زمانہ آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ عرفات میں جائیں وہاں ٹھہریں اور وہیں سے لوٹ کر (مزدلفہ) آئیں۔ ﴿ ثُمَّاَفِيْضُوْامِنْحَيْثُاَفَاضالنَّاسُ﴾ سے یہی مراد ہے۔ [بخاري، كتاب التفسير۔ باب ثم افيضوا۔۔۔] حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ (جو تمتع کی نیت سے عمرہ کے بعد احرام کھول دے) جب تک حج کا احرام نہ باندھے بیت اللہ کا نفل طواف کرتا رہے۔ پھر جب حج کا احرام باندھے اور عرفات جانے کو سوار ہو تو (حج کے بعد) جو قربانی ہو وہ کرے خواہ اونٹ ہو یا گائے یا بکری ہو، اور اگر قربانی میسر نہ ہو تو حج کے دنوں میں عرفہ کے دن سے پہلے تین روزے رکھے اور اگر تیسرا روزہ عرفہ کے دن آ جائے تب بھی کوئی حرج نہیں۔ مکہ سے عرفات جائے، وہاں سے عصر کی نماز سے رات کی تاریکی ہونے تک ٹھہرے۔ پھر عرفات سے اس وقت لوٹے جب دوسرے لوگ لوٹیں اور سب لوگوں کے ساتھ رات مزدلفہ میں گزارے اللہ کا ذکر، تکبیر اور تہلیل صبح ہونے تک بہت کرتا رہے، پھر صبح کو لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ لوٹے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ ثُمَّاَفِيْضُوْامِنْحَيْثُاَفَاضالنَّاسُ ﴾ اور کنکریاں مارتے وقت اسی طرح ذکر، تکبیر اور تہلیل کرتا رہے۔ [بخاري۔ حواله ايضاً]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔