ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 176

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِی الۡکِتٰبِ لَفِیۡ شِقَاقٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۱۷۶﴾٪
یہ اس لیے کہ اللہ نے یہ کتاب حق کے ساتھ اتاری ہے اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا ہے یقینا وہ بہت دور کی مخالفت میں (پڑے) ہیں۔ En
یہ اس لئے کہ خدا نے کتاب سچائی کے ساتھ نازل فرمائی۔ اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا وہ ضد میں (آکر نیکی سے) دور (ہوگئے) ہیں
En
ان عذابوں کا باعﺚ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی کتاب اتاری اور اس کتاب میں اختلاف کرنے والے یقیناً دور کے خلاف میں ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

176۔ یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تو کتاب حق کے مطابق نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف [220] کیا وہ بد بختی میں دور جا پہنچے ہیں
[220] اختلاف امت اور فرقہ پرستی کے اسباب:۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت بڑی حقیقت سے مطلع فرمایا ہے جو یہ ہے کہ جو لوگ اختلاف کرتے ہیں اور مختلف فرقوں میں بٹ جاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ حق ان پر مشتبہ ہو جاتا ہے بلکہ اس کی اصل وجہ ان کی باہمی ضد ہوتی ہے جس میں وہ دور تک چلے جاتے ہیں۔ چنانچہ آپ خود ملاحظہ فرما لیجئے کہ اسلام میں جتنے فرقے پیدا ہوئے ہیں۔ سب اپنے حق میں کتاب و سنت سے ہی استدلال کرتے ہیں۔ یہ استدلال عموماً غلط ہوتا ہے اور کبھی صحیح بھی ہوتا ہے مگر استدلال کے اختلاف میں رواداری کے بجائے جب ضد پیدا ہو جائے اور استدلال کرنے والا اپنی بات پر اڑ جائے تو یہیں سے نئے فرقہ کی ابتدا شروع ہو جاتی ہے۔ جس کے لیے قرآن کریم میں بے شمار مقامات پر سخت وعید آئی ہے۔ واضح رہے کہ ہر گمراہ فرقے کی بنیاد یا تو کسی شرکیہ عقیدہ اور عمل پر استوار ہوتی ہے اور یا کسی بدعی عقیدہ و عمل پر۔ پھر اپنے اس بدعی عقیدہ کو کھینچ تان کر کتاب و سنت سے درست یا جائز ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص بدعی عقیدہ یا عمل رائج کرنا چاہتا ہے۔ اسے کوئی نہ کوئی روکنے اور ٹوکنے والا بھی ہوتا ہے۔ لیکن بدعی عقیدہ کا موجد اور اس کے متبعین کے لیے حق کو ماننے کے بجائے انا اور ضد کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس طرح ایک نیا فرقہ وجود میں آ جاتا ہے اور اس حقیقت کو قرآن مجید نے چار مختلف مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اور اس کی وجہ یہی ﴿بَغْيًا بَيْنَهُمْ ہی بتلائی ہے۔ یعنی اس کی وجہ یہ ہرگز نہیں ہوتی کہ کتاب و سنت میں اس کا واضح حل موجود نہیں ہوتا۔ [نيز ديكهئے اسي سورة كا حاشيه نمبر 282]