ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 156

الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ ﴿۱۵۶﴾ؕ
وہ لوگ کہ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے توکہتے ہیں بے شک ہم اللہ کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ En
ان لوگوں پر جب کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم خدا ہی کا مال ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
En
جنہیں، جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

156۔ کہ جب انہیں کوئی مصیبت آئے تو فوراً کہہ اٹھتے ہیں کہ: ہم (خود بھی) اللہ ہی کی ملک ہیں۔ [196] اور اسی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے
[196] مصیبت کے وقت «انالله وانا اليه رجعون» کہنا:۔
جو یہ کلمات صرف زبان سے ہی ادا نہیں کرتے بلکہ دل سے بھی اس بات کے قائل ہوتے ہیں کہ چونکہ ہم اللہ ہی کی ملک ہیں۔ لہٰذا ہماری جو چیز بھی اللہ کی راہ میں قربان ہوئی وہ اپنے ٹھیک ٹھکانے پر پہنچ گئی اور وہ کسی قسم کی بے قراری یا اضطراب کا اظہار نہیں کرتے نہ ہی زبان سے کوئی ناشکری کا کلمہ نکالتے ہیں۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ (زینبؓ کا بیٹا) فوت ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سے فرمایا: یوں کہو: «أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ»
”جو اس نے لے لیا وہ اللہ ہی کا تھا اور جو دے رکھا ہے وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ اس کے ہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ لہٰذا تمہیں چاہیے کہ صبر کرو اور اس سے ثواب کی امید رکھو۔“ [بخاري، كتاب المرضيٰ۔ باب عيادة الصبيان و كتاب الجنائز مسلم كتاب الجنائز، باب البكاء على الميت]
157۔ ایسے ہی لوگوں پر ان کے رب کی طرف سے عنایات اور رحمتیں برستی ہیں ایسے ہی لوگ ہدایت یافتہ ہوتے ہیں