154۔ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں شہید ہو جائیں انہیں مردہ نہ کہو۔ [194] کیونکہ وہ (حقیقتاً) زندہ ہیں مگر تم (ان کی زندگی کی کیفیت کو) [194۔ 1] سمجھ نہیں سکتے
[194] کیونکہ موت کا لفظ اور اس کا تصور انسان کے ذہن پر ایک ہمت شکن اثر ڈالتا ہے اور لوگوں میں جذبہ جہاد فی سبیل اللہ کے سرد پڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ لہٰذا شہداء کو مردہ کہنے سے روک دیا گیا۔ علاوہ ازیں یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ شہید کی موت قوم کی حیات کا سبب بنتی ہے اور شہید در اصل حیات جاوداں پا لیتا ہے اور اس سے روح شجاعت بھی تازہ رہتی ہے۔ [194۔ 1]
شہداء کی زندگی:۔
صحیح احادیث میں وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”شہداء کی روحیں سبز پرندوں کے جسم میں ہوتی ہیں اور ان کے لیے عرش کے ساتھ کچھ قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں۔ یہ روحیں جنت میں جہاں چاہتی ہیں سیر کرتی پھرتی ہیں۔ پھر ان قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔“ [مسلم، كتاب الامارة باب فى بيان ان ارواح الشهداء فى الجنة وانهم احياء عند ربهم يرزقون نيز ديكهئے: 3: 129]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔