ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 149

وَ مِنۡ حَیۡثُ خَرَجۡتَ فَوَلِّ وَجۡہَکَ شَطۡرَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ ؕ وَ اِنَّہٗ لَلۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَ مَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴۹﴾
اور تو جہاں سے نکلے سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور بلاشبہ یقینا یہی تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔ En
اور تم جہاں سے نکلو، (نماز میں) اپنا منہ مسجد محترم کی طرف کر لیا کرو بےشک وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور تم لوگ جو کچھ کرتے ہو۔ خدا اس سے بے خبر نہیں
En
آپ جہاں سے نکلیں اپنا منھ (نماز کے لئے) مسجد حرام کی طرف کرلیا کریں، یہی حق ہے آپ کے رب کی طرف سے، جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بےخبر نہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

149۔ اور آپ جہاں سے بھی (سفر وغیرہ پر) نکلیں تو (نماز کے وقت) اپنا رخ کعبہ کی طرف پھیر لیا کریں۔ یہ تمہارے پروردگار کا بالکل درست فیصلہ ہے اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں
[186] تحویل قبلہ کے حکم کو تین بار کیوں دہرایا گیا؟ اس آیت کو مکرر اور سہ کرر لایا گیا ہے۔ کیونکہ اس کی وجوہ الگ الگ ہیں۔ مثلاً ﴿قَدْ نَرَيٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِيْ السَّمَاء سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا اور اظہار کی تکریم کی خاطر تحویل قبلہ کا حکم دیا، اور﴿ وَلِكُلٍّ وِّجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيْهَا میں یہ ارشاد فرمایا، تحویل قبلہ کے مسئلہ پر جھگڑے کھڑے کرنا درست نہیں۔ اصل کام تو نیک کاموں کی طرف پیش قدمی ہے اور آیت ﴿لِئَلَّا يَكُوْنَ للنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ میں یہ واضح فرمایا کہ لوگوں کو تم مسلمانوں سے جھگڑنے کا موقع باقی نہ رہے، وہ یوں کہ تحویل قبلہ سے بیشتر یہودی مسلمانوں سے یہ کہتے تھے کہ ہمارا دین تو نہیں مانتے لیکن نماز ہمارے ہی قبلہ کی طرف پڑھتے ہیں اور مشرکین مکہ یہ اعتراض کرتے کہ دعویٰ تو ابراہیمؑ کے طریق پر چلنے کا کرتے ہیں مگر ان کا قبلہ چھوڑ دیا ہے۔