وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے کچھ لوگ یقینا حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
En
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
146۔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب (تورات) دی ہے وہ اس (کعبہ) کو یوں پہچانتے ہیں۔ جیسے اپنے [183] بیٹوں کو۔ پھر بھی ان میں یقیناً ایک گروہ ایسا ہے جو دیدہ و دانستہ حق بات کو چھپا جاتا ہے
[183] یہود کو قبلہ اول کا پورا علم تھا:۔
عربوں میں یہ محاورہ ہے کہ جس چیز کے متعلق انہیں کسی طرح کا شک و شبہ نہ ہو تو سمجھتے ہیں کہ وہ اس بات کو یوں پہچانتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو علمائے یہود و نصاریٰ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ حضرت ابراہیم جن کی امت اور ملت ہونے کا یہ دم بھرتے ہیں، نے خانہ کعبہ تعمیر کیا اور اسے ہی قبلہ مقرر کیا تھا اور بیت المقدس تو تیرہ سو سال بعد حضرت سلیمانؑ نے تعمیر کیا تھا۔ پھر بیت المقدس کو قبلہ قرار دینے کا ذکر نہ کہیں تورات میں موجود ہے اور نہ انجیل میں۔ اس تاریخی واقعہ میں ان کے لیے کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی اور وہ یہ بات بھی خوب جانتے ہیں کہ قبلہ اول اور حقیقی قبلہ کعبہ ہی ہے۔ لیکن وہ یہ بات عوام کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔