اور جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لائو جس طرح لوگ ایمان لائے ہیں، توکہتے ہیں کیا ہم ایمان لائیں جیسے بے وقوف ایمان لائے ہیں؟ سن لو! بے شک وہ خود ہی بے وقوف ہیں اور لیکن وہ نہیں جانتے۔
En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جس طرح اور لوگ ایمان لے آئے، تم بھی ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں، بھلا جس طرح بےوقوف ایمان لے آئے ہیں اسی طرح ہم بھی ایمان لے آئیں؟ سن لو کہ یہی بےوقوف ہیں لیکن نہیں جانتے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اور لوگوں (یعنی صحابہ) کی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو جواب دیتے ہیں کہ کیا ہم ایسا ایمان ﻻئیں جیسا بیوقوف ﻻئے ہیں، خبردار ہوجاؤ! یقیناً یہی بیوقوف ہیں، لیکن جانتے نہیں
En
13۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ ”ایمان لاؤ جیسے اور لوگ [19] ایمان لائے ہیں ‘ ‘، تو کہتے ہیں ”کیا ہم ایسے ایمان لائیں، جیسے احمق لوگ ایمان لائے ہیں؟“ خوب سن لو! (حقیقتاً) یہی لوگ احمق ہیں مگر وہ (یہ بات) جانتے [20] نہیں
[19] اس آیت میں الناس سے مراد سچے مومن ہیں، یعنی مہاجرین و انصار وغیرہ اور منافق انہیں احمق اس لیے کہتے تھے کہ یہ سچے مومن تھے۔ منافقوں کی طرح مفاد پرست نہیں تھے بلکہ دین کی خاطر کٹھن سے کٹھن حالات کا مقابلہ کرنے حتیٰ کہ جان تک دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ [20] یعنی وہ یہ نہیں جانتے کہ دین و ایمان اور اصولوں پر وقتی اور دنیوی مفادات کو ترجیح دینا ہی سب سے بڑی حماقت ہے اور یہ وقتی مفادات کیا تھے؟ وہ مسلمانوں کی طرف سے ان کے جان و مال کی حفاظت، مسلمانوں سے رشتے ناطے کرنا اور اگر جنگ میں شامل ہوں۔ خواہ ان کے دلی ارادے کیسے ہی ناپاک ہوں۔ فتح کی صورت میں انہیں اموال غنیمت سے حصہ مل جاتا تھا۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔