اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے، بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے رسول بھیج جو ان کے پاس تیری آیتیں پڑھے، انہیں کتاب وحکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے، یقیناً تو غلبہ واﻻ اور حکمت واﻻ ہے
129۔ اے ہمارے پروردگار! ان میں ایک رسول مبعوث فرما [160] جو انہی میں سے ہو، وہ ان کے سامنے تیری آیات کی تلاوت کرے، انہیں کتاب اور حکمت [161] کی تعلیم دے اور ان کو پاکیزہ بنا دے۔ [162] بلا شبہ تو غالب اور حکمت والا ہے۔“
[160] میں ابراہیمؑ کی دعا ہوں:۔
یعنی اہلیان شہر مکہ میں سے رسول مبعوث فرما۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور اولاد اسماعیلؑ میں سے نبی عربی پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں حضرت ابراہیمؑ کی دعا ہوں۔“ [احمد، بحواله مشكوٰة، باب فضائل سيد المرسلين صلوات اللّٰه وسلامه عليه الفصل الثاني]
[161] حکمت کیا ہے؟ اور وحی مخفی:۔
حکمت کے لفظی معنی سمجھ اور دانائی ہے۔ پھر اس میں وہ سب طور طریقے بھی شامل ہو جاتے ہیں جو کسی کام کو عملی طور پر سر انجام دینے کے لیے ضروری ہوں۔ پہلی قسم کو حکمت علمی اور دوسری قسم کو حکمت عملی کہتے ہیں اور امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی تصنیف ’الرسالہ‘ میں بے شمار دلائل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ قرآن میں جہاں بھی کتاب کے ساتھ حکمت کا لفظ آیا ہے تو اس سے مراد سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد کوئی شخص غرور سے ایسا نہ کہے کہ میں اللہ کی کتاب میں یہ حکم نہیں پاتا۔ خوب سن لو! مجھے یہ کتاب (قرآن) بھی دیا گیا ہے اور اس کی مثل اتنا کچھ اور بھی۔“ (ترمذی) ابو داؤد وغیرہما) نیز قرآن کریم کی یہ آیت ﴿وَمَآاٰتٰكُمُالرَّسُوْلُفَخُذُوْهُ ۤ وَمَانَهٰكُمْعَنْهُفَانْتَهُوْا﴾[7: 59] سنت رسول کی اتباع کو واجب قرار دیتی ہے۔ جس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص سنت رسول کا منکر ہے وہ حقیقتاً قرآن کا بھی منکر ہے۔
[162] تزکیہ نفس کا مفہوم:۔
تزکیہ نفس مشہور لفظ ہے یعنی انہیں پاکیزہ بنائے اور سنوارے اور سنوارنے میں، اخلاق، عادات، معاشرت، تمدن، سیاست غرض ہر چیز کو سنوارنا شامل ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عملی طور پر صحابہ کرامؓ کی تربیت کرنا بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری تھی۔ اس کی ایک معمولی سی مثال ملاحظہ فرمائیے۔ ایک دفعہ حضرت ابو ذر غفاریؓ (جو سابقین و اولین میں سے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے پیار بھی بہت تھا) نے حضرت بلالؓ کو صرف یہ کہا تھا ”اے کالی ماں کے بیٹے۔“ تو اتنی سی بات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر غفاریؓ پر شدید گرفت کرتے ہوئے فرمایا: «إِنَّكَامْرُؤٌفِيكَجَاهِلِيَّةٌ»[بخاري كتاب الايمان باب المعاصي من امر الجاهلية] یعنی تو ایسا شخص ہے جس میں ابھی تک جاہلیت کا اثر موجود ہے) یہ تھا آپ کا انداز تربیت اور یہی «يزكيهم» کا مفہوم ہے۔ (تشریح کے لیے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 160 تا 164 ملاحظہ فرمائیے۔)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔