اور جب ہم نے اس گھر کو لوگوں کے لیے لوٹ کر آنے کی جگہ اور سراسر امن بنایا، اور تم ابراہیم کی جائے قیام کو نماز کی جگہ بنائو۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکیدی حکم دیا کہ تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھو۔
En
اور جب ہم نے خانہٴ کعبہ کو لوگوں کے لیے جمع ہونے اور امن پانے کی جگہ مقرر کیا اور (حکم دیا کہ) جس مقام پر ابراہیم کھڑے ہوئے تھے، اس کو نماز کی جگہ بنا لو۔ اور ابراہیم اور اسمٰعیل کو کہا کہ طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے میرے گھر کو پاک صاف رکھا کرو
ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لئے ﺛواب اور امن وامان کی جگہ بنائی، تم مقام ابراہیم کو جائے نماز مقرر کرلو، ہم نے ابراہیم ﴿علیہ السلام﴾ اور اسماعیل ﴿علیہ السلام﴾ سے وعده لیا کہ تم میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجده کرنے والوں کے لئے پاک صاف رکھو
En
125۔ اور جب ہم نے بیت اللہ کو لوگوں کے لیے عبادت گاہ [151] اور امن کی جگہ قرار دیا (تو حکم دیا کہ) مقام ابراہیم کو [152] جائے نماز بناؤ۔ اور حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کو تاکید کی کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے [153] صاف ستھرا رکھیں
[151] مقام ابراہیم کی فضیلت:۔
مثابۃ بمعنی لوگوں کے بار بار آتے اور جاتے رہنے کی جگہ (بغرض حج، عمرہ، طواف، اور عبادت نماز وغیرہ) [152] وہ پتھر جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیمؑ خانہ کعبہ کی تعمیر کرتے رہے۔ اسی پر کھڑے ہو کر آپ نے لوگوں کو حج کے لیے پکارا۔ یہ پتھر خانہ کعبہ کے صحن میں ہے اور آج کل اسے ایک چھوٹی سی شیشہ کی گنبد نما عمارت میں محفوظ کر دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے تین باتوں میں میری رائے اللہ کے علم کے موافق ہو گئی۔ (جن میں ایک یہ تھی) میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اچھا ہو اگر آپ مقام ابراہیمؑ کو نماز کی جگہ قرار دے دیں اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی۔ ﴿وَاتَّخِذُوْامِنْمَّقَامِاِبْرٰهٖمَمُصَلًّي﴾ چنانچہ طواف کرنے والے اسی مقام کے پاس دوگانہ نماز نفل ادا کرتے ہیں۔ [153] مساجد میں صفائی کی فضیلت: معلوم ہوا مسجدوں کو صاف ستھرا رکھنا اور روشنی کا انتظام نہایت فضیلت والا کام ہے۔ جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے دو اولو العزم رسولوں کو بطور خاص حکم دیا۔ یہاں صفائی سے مراد صرف ظاہری صفائی نہیں، بلکہ باطنی صفائی بھی ہے کہ اس گھر میں مشرک لوگ نہ آنے پائیں۔ جو اللہ کے علاوہ دوسروں کو بھی پکارنا شروع کر دیں اور اسے گندا کر دیں۔ اور مساجد کی صفائی اور آداب کے لیے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے: 1۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا (یا صاف کر دینا) ہے [بخاري، كتاب الصلوٰة باب كفارة البزاق فى المسجد] 2۔ حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک کالی عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔ وہ مر گئی۔ آپ نے جب اسے نہ دیکھا تو لوگوں سے اس کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا: وہ مر گئی۔ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے مجھے کیوں نہ خبر کی۔ چلو اب اس کی قبر بتلاؤ“ پھر آپ اس کی قبر پر گئے اور نماز پڑھی۔ [بخاري، كتاب الصلٰوة، باب كنس المسجد] 3۔ حضرت انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک گنوار آیا اور مسجد نبوی کے ایک کونے میں پیشاب کرنے لگا۔ لوگوں نے اسے جھڑکا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جھڑکنے سے منع فرمایا۔ جب وہ پیشاب کر چکا تو آپ نے صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ اس جگہ پانی کا ایک ڈول بہا دیا جائے۔ [بخاري، كتاب الوضوء، باب ترك النبى والناس الاعرابي حتي فرغ من بوله فى المسجد] اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب اعرابی پیشاب سے فارغ ہو چکا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سمجھایا کہ یہ مسجدیں اللہ کے ذکر کے مقامات ہیں، بول و براز کے لئے نہیں لہٰذا انہیں صاف ستھرا رکھنا چاہیے۔ 4۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کوئی اس درخت یعنی لہسن کو کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے۔ عطا کہتے ہیں کہ میں نے جابرؓ سے پوچھا کچی لہسن مراد ہے یا پکی ہوئی؟ انہوں نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ اس سے کچی لہسن اور اس کی بدبو مراد ہے۔ [بخاري۔ كتاب الاذان، باب، ماجاء فى الثوم الني والبصل والكراث] 5۔ سائب بن یزیدؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں کھڑا تھا۔ کسی نے مجھ پر پتھر پھینکا، کیا دیکھتا ہوں کہ وہ حضرت عمرؓ ہیں۔ انہوں نے مجھے کہا: جاؤ فلاں دو آدمیوں کو میرے پاس بلا لاؤ۔ میں انہیں بلا لایا تو حضرت عمرؓ نے ان سے پوچھا: تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہنے لگے ہم طائف سے آئے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا، اگر تم اس شہر (مدینہ) کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا۔ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے (شور مچاتے) ہو۔ [بخاري، كتاب الصلٰوة، باب رفع الصوت فى المسجد]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔