ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 11

وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت ڈالو تو کہتے ہیں ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں، ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں
En
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد [16] بپا نہ کرو، تو کہتے ہیں کہ ”ہم ہی تو اصلاح [17] کرنے والے ہیں۔“
[16] ان کا فساد یہ تھا کہ ان کی دلی ہمدردیاں تو کافروں سے تھیں اور مسلمانوں میں شامل رہ کر ان کے حالات سے انہیں باخبر رکھتے اور ان کے لیے جاسوسی کے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ نئے اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کو حیلوں بہانوں سے برگشتہ کرتے تھے اور جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو نقصان پہچانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے تھے۔
[17] یعنی ہم ہر ایک سے صلح رکھنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ پہلے کی طرح سب شیر و شکر ہو کر رہیں اور نئے دین (اسلام) کی وجہ سے جو مخالفت بڑھ رہی ہے وہ ختم ہو جائے۔