ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ البقرة (2) — آیت 10

فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ ۙ فَزَادَہُمُ اللّٰہُ مَرَضًا ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌۢ ۬ۙ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۰﴾
ان کے دلوں ہی میں ایک بیماری ہے تو اللہ نے انھیں بیماری میں اور بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے، اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔ En
ان کے دلوں میں (کفر کا) مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
En
ان کے دلوں میں بیماری تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بیماری میں مزید بڑھا دیا اور ان کے جھوٹ کی وجہ سے ان کے لئے دردناک عذاب ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

10۔ ایسے لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اور زیادہ [14] بڑھا دیا۔ اور جو وہ جھوٹ بک [15] رہے ہیں اس کے عوض ان کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
[14] مرض سے مراد نفاق، دین اسلام سے نفرت اور مسلمانوں سے حسد اور عناد ہے۔ پھر جوں جوں اسلام اور اہل اسلام کی شوکت بڑھتی گئی، ان کی بیماری میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ [15] یہ جھوٹ ان کا وہی دعویٰ تھا جو وہ کہتے تھے کہ:
﴿ اٰمَنَّا باللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ
جب کہ ان کے اعمال اور ان کی حرکات و سکنات اس دعویٰ کی مخالف سمت میں تھیں۔ اسی لیے انہیں دردناک عذاب ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ [145: 4]
بلا شبہ منافق دوزخ کے سب سے نچلے طبقے میں ہوں گے۔