ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 96

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجۡعَلُ لَہُمُ الرَّحۡمٰنُ وُدًّا ﴿۹۶﴾
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے عنقریب ان کے لیے رحمان عظیم محبت پیدا کر دے گا۔ En
اور جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے خدا ان کی محبت (مخلوقات کے دل میں) پیدا کردے گا
En
بیشک جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے شائستہ اعمال کیے ہیں ان کے لیے اللہ رحمٰن محبت پیدا کردے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

96۔ یقیناً جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اچھے کام کر رہے ہیں، عنقریب اللہ تعالیٰ ان کے لئے (لوگوں کے دلوں میں) محبت [82] پیدا کر دیں گے۔
[82] انبیاء اور صالحین سے لوگ محبت اور بد کرداروں سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟
یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی جب صحابہ کرامؓ مجبور و مقہور تھے۔ قریشی سرداروں کے ہاتھوں ستم رسیدہ تھے اور ان کی نگاہوں میں حقیر تھے۔ اس آیت میں ان کے لئے ایک بہت بڑی خوشخبری بھی ہے اور پیشین گوئی بھی پھر ایک وقت آیا جب صحابہ کرامؓ کو اللہ تعالیٰ نے وہ عزت عطا فرمائی کہ سارا جہان ان سے محبت رکھنے اور ان کے گن گانے لگا۔ آج تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ یہ بات صرف صحابہ کرامؓ سے ہی مخصوص نہیں بلکہ جو بھی ایماندار اعمال صالحہ بجا لائے گا۔ ابتداءً خواہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہ ہوں یا اسے اس راہ میں تکلیفیں بھی پہنچیں لیکن جلد ہی اللہ تعالیٰ انھیں عزت بخشیں گے اور لوگوں میں ان کی مقبولیت اور محبت پیدا ہو جائے گی۔ اس کے برعکس بے ایمان اور بد کردار لوگوں کی خواہ ابتدا میں کتنی ہی عزت ہو لیکن وہ بالآخر لوگوں کی نظروں سے گر جاتے ہیں۔ اور لوگ ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب کچھ کیسے اور کیوں ہوتا ہے اس کی تفسیر درج ذیل حدیث میں ملاحظہ فرمائیے: سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتے ہیں تو جبریل کو پکار کر کہتے ہیں کہ میں فلاں بندے سے محبت رکھتا ہوں تم بھی اس سے محبت رکھو۔ پھر جبریل آسمان میں پکارتے ہیں۔ پھر اہل زمین میں اس کی محبت نازل کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول کا یہی مطلب ہے اور جب اللہ کسی بندے سے ناراض ہو جاتے ہیں تو جبریل سے کہتے ہیں: میں فلاں بندے سے ناراض ہوں تم بھی اس سے ناراض ہو جاؤ۔ پھر یہی بغض اس کے لئے اہل زمین میں نازل کیا جاتا ہے۔ [ترمذي، ابواب التفسير]