ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 91

اَنۡ دَعَوۡا لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدًا ﴿ۚ۹۱﴾
کہ انھوں نے رحمان کے لیے کسی اولاد کا دعویٰ کیا۔ En
کہ انہوں نے خدا کے لئے بیٹا تجویز کیا
En
کہ وه رحمان کی اوﻻد ﺛابت کرنے بیٹھے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

91۔ اس بات پر انہوں نے رحمن کے لئے اولاد کا [79] دعویٰ کیا
[79] یہود کے نزدیک عزیر اللہ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ عیسیٰ کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور دوسرے مشرکین کے دیوتا اور دیویاں سب اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں یا ان کی اولاد ہے۔ گویا ان لوگوں نے اللہ کی نسل ہی چلا دی۔ اللہ تعالیٰ کے حق میں یہ اس قدر گستاخانہ بات ہے کہ اگر آسمان زمین اور پہاڑ وغیرہ ہول کے مارے پھٹ پڑیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں تو کچھ عجب نہیں۔ اس گستاخی پر اگر اللہ کا غضب بھڑک اٹھے اور زمین و آسمان کے پرخچے اڑ جائیں۔ نظام عالم تباہ و برباد ہو جائے تو سب کچھ ممکن ہے۔ یہ تو محض اس کا حلم ہے جو ایسی بے ہودہ بات سن کر بھی دنیا کو یکدم تباہ نہیں کر رہا۔ چنانچہ سیدنا ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (گویا یہ حدیث قدسی ہے) کہ ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور ابن آدم نے مجھے گالی دی اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ اس کا جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں اسے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کر سکتا۔ گالی دینا یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میری اولاد ہے حالانکہ میں اس سے پاک ہوں کہ کسی کو بیوی یا بچہ بناؤں۔ [بخاري، كتاب التفسير، سورة مريم، زير آيت متعلقه، نيز سورة اخلاص]