ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 9

قَالَ کَذٰلِکَ ۚ قَالَ رَبُّکَ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌ وَّ قَدۡ خَلَقۡتُکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ لَمۡ تَکُ شَیۡئًا ﴿۹﴾
کہا ایسے ہی ہے، تیرے رب نے فرمایا ہے یہ میرے لیے آسان ہے اور یقینا میں نے تجھے اس سے پہلے پیدا کیا جب کہ تو کچھ بھی نہ تھا۔ En
حکم ہوا کہ اسی طرح (ہوگا) تمہارے پروردگار نے فرمایا ہے کہ مجھے یہ آسان ہے اور میں پہلے تم کو بھی تو پیدا کرچکا ہوں اور تم کچھ چیز نہ تھے
En
ارشاد ہوا کہ وعده اسی طرح ہو چکا، تیرے رب نے فرما دیا ہے کہ مجھ پر تو یہ بالکل آسان ہے اور تو خود جبکہ کچھ نہ تھا میں تجھے پیدا کر چکا ہوں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”ہاں ایسا ضرور ہو گا۔ تیرا پروردگار یہ کہہ رہا ہے کہ یہ میرے لئے آسان سی بات ہے، اس سے پہلے میں تجھے [11] پیدا کر چکا ہوں جبکہ تو کوئی چیز بھی نہ تھا“
[11] یہاں خلقتک سے مراد سیدنا زکریاؑ بھی ہو سکتے ہیں اور سیدنا آدمؑ بھی۔ دونوں صورتوں میں اس واقعہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حیران کن قدرت کاملہ کا اظہار ہوتا ہے نیز یہاں تو پھر وسائل (یعنی سیدنا زکریا اور ان کی بیوی) موجود ہیں۔ ان کی زائل شدہ قوتوں کو از سر نو زندہ یا بحال کر دینا اللہ کے لئے کچھ مشکل نہیں۔