ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 87

لَا یَمۡلِکُوۡنَ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنۡدَ الرَّحۡمٰنِ عَہۡدًا ﴿ۘ۸۷﴾
وہ سفارش کے مالک نہ ہوں گے مگر جس نے رحمان کے ہاں کوئی عہد لے لیا۔ En
(تو لوگ) کسی کی سفارش کا اختیار نہ رکھیں گے مگر جس نے خدا سے اقرار لیا ہو
En
کسی کو شفاعت کا اختیار نہ ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی قول قرار لے لیا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

87۔ اس دن کوئی بھی کسی کی سفارش نہ کر سکے گا، مگر جس نے اللہ تعالیٰ سے عہد [78] لیا ہو۔
[78] سفارش کی کڑی شرائط:۔
اس ذو معنی جملہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک تو سفارش صرف اس شخص کے حق میں کی جا سکے گی جس نے اپنے آپ کو مستحق شفاعت بنائے رکھا ہو۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ کا عہد ہے کہ ان کے حق میں سفارش قبول کی جائے گی اور یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی شرک نہ کیا ہو گا۔ اللہ کے فرمانبردار ہوں گے مگر کبھی کبھی ان سے گناہ بھی سرزد ہو گئے ہوں گے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ سفارش صرف وہ لوگ کر سکیں گے جنہیں اللہ تعالیٰ سفارش کرنے کی اجازت دیں گے اور یہی اللہ کا عہد ہے۔ ان لوگوں کو سفارش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہو گی جن سے مشرکوں نے اپنی توقعات وابستہ کر رکھی ہیں۔