71۔ تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا جہنم پر گزر نہ [65] ہو۔ یہ ایک قطعی طے شدہ بات ہے جسے پورا کرنا آپ کے پروردگار کے ذمہ ہے۔
[65] پل صراط سے ہر ایک کو گزرنا ہے:۔
یعنی ہر شخص کو خواہ وہ مسلم ہو، کافر، نیک ہو یا بد ایک دفعہ ضرور جہنم کے کنارے لا کھڑا کیا جائے گا اور یہ اللہ کی طرف سے ایسی طے شدہ بات ہے جس کا کبھی خلاف نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے: (1) سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب لوگ دوزخ پر پہنچیں گے پھر اپنے اپنے اعمال کے لحاظ سے واپس ہوں گے۔ پہلا گروہ تو بجلی کی چمک کی طرح نکل جائے گا، دوسرا ہوا کی طرح، تیسرا گھڑ سوار کی طرح، چوتھا اونٹ کی طرح، پانچواں دوڑنے والے کی طرح اور چھٹا جیسے آدمی پیدل چلتا ہو“ [ترمذي، ابواب التفسير] (2) اور سیدنا ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ پل صراط کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک پل ہے جسے جہنم کی پشت پر رکھیں گے۔ یہ پل پہلوان کے گرنے کا مقام ہے۔ اس پر سنسیاں ہیں۔ آنکڑے ہیں، چوڑے چوڑے کانٹے ہیں، ان کا سر خم دار سعدان کے کانٹوں کی طرح ہو گا جو نجد کے ملک میں ہوتے ہیں۔ مسلمان اس پر سے پلک جھپکنے کی طرح، بجلی کی طرح، آندھی کی طرح، تیز گھوڑوں کی طرح اور سانڈنیوں کی طرح گزر جائیں گے۔ بعض صحیح و سلامت وہاں سے بچ کر نکل جائیں گے اور کچھ زخمی ہو کر اور چھل چھلا کر اور بعض دوزخ میں گر پڑیں گے۔ آخری شخص جو پل صراط سے پار ہو گا اسے کھینچ کھینچ کر پار کریں گے۔ پھر جو لوگ خود نجات پا جائیں گے وہ ان دوزخ میں گرے ہوئے مسلمانوں کے لئے اللہ سے مطالبہ اور تقاضا کرنے لگیں گے حتیٰ کہ جس کے دل میں رائی بھر بھی ایمان ہو گا اللہ اسے دوزخ سے نکال لے گا۔ بشرطیکہ اس نے اللہ سے شرک نہ کیا ہو۔ [بخاري، كتاب التوحيد، باب ﴿وُجُوْهٌيَّوْمَيِٕذٍنَّاضِرَةٌ﴾ طويل حديث سے اقتباس]
ورود سے مراد دخول نہیں:۔
بعض روایات میں وارد کے معنی دخول لئے گئے ہیں یعنی ہر شخص کو کم از کم ایک دفعہ ضرور جہنم میں داخل ہونا ہو گا۔ یہ بات درست نہیں۔ ایک تو ایسی روایات سنداً ناقابل اعتماد ہیں۔ دوسرے خود قرآن کریم اور بہت سی صحیح احادیث کے خلاف ہیں اور تیسرے لغوی لحاظ سے بھی یہ مفہوم غلط ہے۔ ورود کا معنی کسی جگہ پر جا پہنچنا ہے۔ اس میں داخل ہونا نہیں۔ (اسی سورۃ کا حاشیہ نمبر 77 ملاحظہ فرمائیے)
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔