ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 7

یٰزَکَرِیَّاۤ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلٰمِۣ اسۡمُہٗ یَحۡیٰی ۙ لَمۡ نَجۡعَلۡ لَّہٗ مِنۡ قَبۡلُ سَمِیًّا ﴿۷﴾
اے زکریا! بے شک ہم تجھے ایک لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں، جس کا نام یحییٰ ہے، اس سے پہلے ہم نے اس کا کوئی ہم نام نہیں بنایا۔ En
اے زکریا ہم تم کو ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہے۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا
En
اے زکریا! ہم تجھے ایک بچے کی خوشخبری دیتے ہیں جس کا نام یحيٰ ہے، ہم نے اس سے پہلے اس کا ہم نام بھی کسی کو نہیں کیا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ (اللہ تعالیٰ نے جواباً فرمایا:) زکریا! ہم تمہیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ اس سے پیشتر اس نام کا کوئی دوسرا آدمی ہم نے پیدا [9] نہیں کیا۔
[9] یحییٰ اللہ کا اپنا تجویز کردہ نام:۔
اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کر کے بیٹے کی بشارت دی تو ساتھ ہی نام بھی خود ہی تجویز فرما دیا اور نام بھی ایسا انوکھا کہ پہلے کسی آدمی کا یہ نام نہیں رکھا گیا تھا۔ یحییٰ: دعائیہ نام ہے یعنی اللہ کرے تا دیر زندہ رہے۔ جیسے ہمارے ہاں جیونا یا جیونی نام رکھتے ہیں اور عرب میں عائش اور عائشہ، نیز اسم بمعنی صفت بھی ہو سکتا ہے جیسے ﴿وللّٰه الاسماء الحسنيٰ کے معنی ”اللہ کے بہترین نام“ بھی ہو سکتے ہیں اور ”بہترین صفات“ بھی، اس لحاظ سے اس کا معنی یہ ہو گا کہ ایسی اچھی سیرت والا آدمی پہلے کوئی نہیں ہوا۔