ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 62

لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا اِلَّا سَلٰمًا ؕ وَ لَہُمۡ رِزۡقُہُمۡ فِیۡہَا بُکۡرَۃً وَّ عَشِیًّا ﴿۶۲﴾
وہ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے مگر سلام اور ان کے لیے اس میں ان کا رزق صبح و شام ہوگا۔ En
وہ اس میں سلام کے سوا کوئی بیہودہ کلام نہ سنیں گے، اور ان کے لئے صبح وشام کا کھانا تیار ہوگا
En
وه لوگ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے صرف سلام ہی سلام سنیں گے، ان کے لئے وہاں صبح شام ان کا رزق ہوگا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ اس جنت میں وہ امن اور سلامتی کی باتوں کے علاوہ کوئی بیہودہ بات [57] نہ سنیں گے اور وہاں انھیں صبح و شام [58] ان کا رزق ملتا رہے گا۔
[57] لغو سے مراد:۔
بیہودہ بات سے مراد جھوٹی بات، غیبت، چغلی، تمسخر، فتنہ و فساد، یا شرارت کی بات، بے معنی بات یا گندی اور شہوانیت کی بات اور گالی گلوچ سب کچھ شامل ہے۔ گویا جنت کا معاشرہ ایسا پاکیزہ معاشرہ ہو گا کہ ان باتوں میں سے کوئی بات بھی وہاں نہ پائی جائے گی اور لفظ سلٰما کا ایک مطلب تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے۔ اور اس لفظ کا دوسرا مطلب لفظ لغو کی ضد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ یعنی اہل جنت آپس میں ایسے پیار، محبت اور خلوص سے رہیں گے جو ہر طرح کے معاشرتی عیوب و نقائص سے پاک ہو گا۔ اور ایسے پاکیزہ معاشرہ کی قدر و قیمت صرف وہ آدمی جان سکتا ہے جو خود تو پاکیزہ خصلت ہو لیکن اسے کسی گندے معاشرے میں رہنا پڑا ہو۔
[58] یعنی روحانی غذائیں بھی جیسے تسبیح و تہلیل اور ذکر و اذکار اور جسمانی بھی اور ان دونوں طرح کی غذاؤں کا ذکر کتاب و سنت میں بکثرت موجود ہے۔