ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 60

اِلَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ وَ لَا یُظۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا ﴿ۙ۶۰﴾
مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا۔ En
ہاں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا
En
بجز ان کے جو توبہ کر لیں اور ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں۔ ایسے لوگ جنت میں جائیں گے اور ان کی ذرا سی بھی حق تلفی نہ کی جائے گی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

60۔ البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی، ایمان لایا [56] اور اچھے عمل کئے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہو گی۔
[56] نماز کا تارک ایماندار نہیں رہتا جب تک توبہ نہ کرے:۔
ان الفاظ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نمازوں کو ضائع کرنے اور اپنی خواہش کے پیچھے لگنے والا ایماندار نہیں رہتا۔ ایسے گنہگاروں میں سے بھی جو شخص اللہ کے حضور رجوع کرے، توبہ کرے، آئندہ پھر وہ کام نہ کرے بلکہ اس کے بجائے اعمال صالحہ بجا لائے، تو ایسے لوگوں کے سابقہ گناہ تو بالکل معاف کر دیئے جائیں گے۔ مگر ان کے سابقہ نیک اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ جس نے توبہ کر لی وہ ایسا ہے کہ گویا اس نے وہ گناہ کیا ہی نہ تھا۔ [ابن ماجه، ابواب الزهد، باب ذكر التوبة]