ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 59

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوۡفَ یَلۡقَوۡنَ غَیًّا ﴿ۙ۵۹﴾
پھر ان کے بعد ایسے نالائق جانشین ان کی جگہ آئے جنھوں نے نماز کو ضائع کر دیا اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے تو وہ عنقریب گمراہی کو ملیں گے۔ En
پھر ان کے بعد چند ناخلف ان کے جانشیں ہوئے جنہوں نے نماز کو (چھوڑ دیا گویا اسے) کھو دیا۔ اور خواہشات نفسانی کے پیچھے لگ گئے۔ سو عنقریب ان کو گمراہی (کی سزا) ملے گی
En
پھر ان کے بعد ایسے ناخلف پیدا ہوئے کہ انہوں نے نماز ضائع کردی اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑ گئے، سو ان کا نقصان ان کے آگے آئے گا En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

59۔ پھر ان کے بعد ان کی نالائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں [55] نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ وہ عنقریب گمراہی کے انجام [55۔ 1] سے دوچار ہوں گے۔
[55] نماز کی اہمیت اور تعلق باللہ:۔
ارکان اسلام میں سے سب سے اہم رکن نماز ہے۔ جس سے ایک مسلمان کا اللہ کے ساتھ تعلق قائم رہتا ہے۔ اگر نماز چھوڑ دی جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ سے انسان کا تعلق منقطع ہو گیا۔ اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز جان بوجھ کر چھوڑی وہ کافر ہو گیا اور اسی لئے نماز کو باقاعدگی کے ساتھ ادا کرنے کی کتاب و سنت میں بار بار تاکید آئی ہے۔ حتیٰ کہ نماز نہ مریض کو معاف ہو سکتی ہے نہ سفر میں اور نہ میدان جنگ کے مختلف حالات میں ' حالات کے مطابق شریعت نے رخصتیں تو دی ہیں مگر نماز کو کسی بھی حالت میں ترک نہیں کیا جا سکتا۔ نمازوں کے ضائع کرنے سے مراد صرف یہ نہیں کہ انہوں نے نماز چھوڑ دی تھی، بلکہ نماز کو جماعت سے ادا نہ کرنا۔ بروقت ادا نہ کرنا، سستی اور بے دلی سے ادا کرنا، بغیر سوچے سمجھے جلد جلد ٹھونگیں مار لینا وغیرہ وغیرہ سب باتیں نماز کو ضائع کرنے کے ضمن میں آتی ہیں۔
[55۔ 1]
غیّ کا مفہوم:۔
اللہ سے تعلق منقطع ہو جانے کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنی خواہشات کا پیروکار اور غلام بن جاتا ہے اور یہی کچھ شیطان چاہتا ہے اور ایسے شخص کے لئے گمراہی کی راہیں کھلتی جاتی ہیں اور بعض لوگوں نے اس کا یوں ترجمہ کیا ہے کہ عنقریب یہ لوگ غیّ میں ڈالے جائیں گے۔ حدیث میں ہے کہ غیّ دوزخ میں ایک وادی یا نالہ ہے جس میں دوزخیوں کا لہو اور پیپ بہے گا اور اس میں زانی، شراب خور، سود خور اور ماں باپ کو ستانے والے ڈالے جائیں گے۔ گویا نمازیں ضائع کرنے والے بھی اسی وادی میں ڈالے جائیں گے۔