ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 38

اَسۡمِعۡ بِہِمۡ وَ اَبۡصِرۡ ۙ یَوۡمَ یَاۡتُوۡنَنَا لٰکِنِ الظّٰلِمُوۡنَ الۡیَوۡمَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۸﴾
کس قدر سننے والے ہوں گے وہ اور کس قدر دیکھنے والے، جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے، لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی میں ہیں۔ En
وہ جس دن ہمارے سامنے آئیں گے۔ کیسے سننے والے اور کیسے دیکھنے والے ہوں گے مگر ظالم آج صریح گمراہی میں ہیں
En
کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ جس دن وہ ہمارے پاس آئیں گے اس روز وہ خوب سن رہے اور دیکھ رہے ہوں گے۔ لیکن یہ ظالم آج کھلی گمراہی [34] میں پڑے ہیں۔
[34] یعنی آج اس دنیا میں انھیں دیکھنے اور سننے کا فائدہ ہے مگر نہ دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن خوب دیکھ اور سن رہے ہوں گے مگر اس دن دیکھنے اور سننے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ اس دن وہ ایسی ایسی باتیں سنیں گے جن سے ان کے جگر پھٹ جائیں گے اور ایسے منظر دیکھیں گے جن سے ان کے چہروں پر سیاہی اور مردنی چھا جائے گی۔