ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 35

مَا کَانَ لِلّٰہِ اَنۡ یَّتَّخِذَ مِنۡ وَّلَدٍ ۙ سُبۡحٰنَہٗ ؕ اِذَا قَضٰۤی اَمۡرًا فَاِنَّمَا یَقُوۡلُ لَہٗ کُنۡ فَیَکُوۡنُ ﴿ؕ۳۵﴾
کبھی اللہ کے لائق نہ تھا کہ وہ کوئی بھی اولاد بنائے، وہ پاک ہے، جب کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو اس سے صرف یہ کہتا ہے کہ ’’ہوجا‘‘ تو وہ ہوجاتا ہے۔ En
خدا کو سزاوار نہیں کہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ہے جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو یہی کہتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے
En
اللہ تعالیٰ کے لئے اوﻻد کا ہونا ﻻئق نہیں، وه تو بالکل پاک ذات ہے، وه تو جب کسی کام کے سر انجام دینے کا اراده کرتا ہے تو اسے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، وه اسی وقت ہو جاتا ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

35۔ اللہ تعالیٰ کو یہ شایاں نہیں کہ کسی کو اپنا بیٹا بنائے وہ (ایسی باتوں سے) پاک ہے۔ جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو بس یہ کہہ دیتا ہے کہ ”ہو جا“ تو وہ [32] ہو جاتی ہے۔
[32] اللہ کو بیٹے یا کسی مددگار کی قطعاً ضرورت نہیں:۔
اللہ تعالیٰ کو کسی کو بیٹا بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، کیونکہ جب سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش سے پہلے ہی یہ کارخانہ کائنات ٹھیک طرح چل رہا تھا تو پھر بیٹا بنانے کی ضرورت کہاں سے آگئی؟ علاوہ ازیں ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کی شان کے شایان بھی نہیں ہیں وہ اس قسم کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے بالاتر اور پاک ہے نیز جب اس کے سارے کام فقط کن کا حکم دینے سے ہو جاتے ہیں۔ فوراً اسباب و وسائل مہیا ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ چیز ہو کے رہتی ہے تو پھر اسے کسی کو بیٹا یا شریک بنانے کی ضرورت بھی کیا ہے؟