ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ مريم (19) — آیت 26

فَکُلِیۡ وَ اشۡرَبِیۡ وَ قَرِّیۡ عَیۡنًا ۚ فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الۡبَشَرِ اَحَدًا ۙ فَقُوۡلِیۡۤ اِنِّیۡ نَذَرۡتُ لِلرَّحۡمٰنِ صَوۡمًا فَلَنۡ اُکَلِّمَ الۡیَوۡمَ اِنۡسِیًّا ﴿ۚ۲۶﴾
پس کھا اور پی اور ٹھنڈی آنکھ سے رہ، پھر اگر کبھی تو آدمیوں میں سے کسی کو دیکھے تو کہہ میں نے تو رحمان کے لیے روزے کی نذرمانی ہے، سو آج میں ہرگز کسی انسان سے بات نہیں کروں گی۔ En
تو کھاؤ اور پیو اور آنکھیں ٹھنڈی کرو۔ اگر تم کسی آدمی کو دیکھو تو کہنا کہ میں نے خدا کے لئے روزے کی منت مانی تو آج میں کسی آدمی سے ہرگز کلام نہیں کروں گی
En
اب چین سے کھا پی اور آنکھیں ٹھنڈی رکھ، اگر تجھے کوئی انسان نظر پڑ جائے تو کہہ دینا کہ میں نے اللہ رحمنٰ کے نام کا روزه مان رکھا ہے۔ میں آج کسی شخص سے بات نہ کروں گی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

26۔ پس کھاؤ [25]، پیو اور اپنی آنکھ ٹھنڈی کرو۔ پھر اگر کوئی آدمی تمہیں دیکھ پائے تو کہہ دینا کہ: ”میں نے اللہ کے لئے روزہ کی نذر مانی ہے لہذا آج کسی انسان سے [26] بات نہ کروں گی“
[25] زچگی کے دوران خورد و نوش کے لئے اللہ کی معجزانہ مدد:۔
جس کھجور کے درخت کے تنے سے سیدہ مریم نے سہارا لیا تھا وہ قدرے بلندی پر واقع تھا اس کے نیچے سے پھر اسی فرشتہ کی آواز سنائی دی جس نے لڑکے کی بشارت دی تھی اور جس کی بشارت شاید اس وقت سیدہ مریم بھول گئی تھیں۔ اور وہ آواز یہ تھی کہ ذرا نیچے تو دیکھو اللہ نے ٹھنڈے اور میٹھے پانی کا چشمہ جاری کر دیا ہے یہ تمہارے پینے کے لئے ہے اور اسی کھجور کے تنے کو زور سے ہلاؤ تو تازہ پکی کھجوریں جھڑنے لگیں گی۔ یہ سیدہ مریم کے کھانے کا سامان کیا گیا اور یہ دونوں چیزیں معجزانہ طور پر پیدا کی گئی تھیں۔ جو اس حالت زچگی کے لئے ایک سادہ غذا بھی تھی اور مناسب و متوازن بھی۔
[26] پیدائش کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے امداد کی صورتیں اور چپ کا روزہ:۔
اللہ کی مہربانی سے بچہ پیدا ہو گیا۔ فرشتہ کی آمد سے تنہائی میں کمی واقع ہوئی۔ کھانے پینے کا سامان بھی مہیا ہو گیا اور چوتھی اور سب سے زیادہ پریشان کن بات یہ تھی کہ بدنامی سے بچاؤ کی کیا صورت ہو اور لوگ جو دیکھیں گے اور پوچھیں گے تو انھیں کیا جواب دیا جائے۔ اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لیا اور فرشتے نے سیدہ مریم کو ہدایت کی کہ اگر کوئی آدمی دیکھے تو اس کو اشارہ سے یہ کہہ دینا کہ میں نے آج چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ لہٰذا کسی آدمی سے بات کرنا مجھے منع ہے۔ واضح رہے کہ چپ کا روزہ پہلی امتوں میں مشروع تھا مگر شریعت محمدیہ میں مشروع نہیں۔ ایسے روزہ میں انسان ذکر اذکار اور اللہ سے دعا وغیرہ تو کر سکتا تھا، مگر لوگوں سے بات چیت نہیں کر سکتا تھا جیسا کہ سیدنا زکریا کو بھی سیدنا یحییٰؑ کے حمل کی علامت ایسا ہی تین دن کا روزہ بتایا گیا تھا۔ ایسے روزہ میں فرشتوں سے بات چیت ممنوع نہیں تھی۔