ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 71

فَانۡطَلَقَا ٝ حَتّٰۤی اِذَا رَکِبَا فِی السَّفِیۡنَۃِ خَرَقَہَا ؕ قَالَ اَخَرَقۡتَہَا لِتُغۡرِقَ اَہۡلَہَا ۚ لَقَدۡ جِئۡتَ شَیۡئًا اِمۡرًا ﴿۷۱﴾
سو دونوں چل پڑے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے تو اس نے اسے پھاڑ دیا۔ کہا کیا تو نے اسے اس لیے پھاڑ دیا ہے کہ اس کے سواروں کو غرق کر دے، بلاشبہ یقینا تو ایک بہت بڑے کام کو آیا ہے۔ En
تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی
En
پھر وه دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے، تو اس نے کشتی کے تختے توڑ دیئے، موسیٰ نے کہا کیا آپ اسے توڑ رہے ہیں تاکہ کشتی والوں کو ڈبو دیں، یہ تو آپ نے بڑی (خطرناک) بات کردی En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ چنانچہ وہ دونوں [62] چل کھڑے ہوئے حتیٰ کہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) اس کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰ نے کہا، کیا تم نے اس لئے شگاف ڈالا ہے کہ کشتی والوں کو ڈبو دو؟ یہ تو تم [63] نے خطرناک کام کیا ہے“
[62] سیدنا خضر سے جب ان دونوں کی ملاقات ہو گئی اور سیدنا موسیٰؑ اور سیدنا خضر میں ابتدائی مکالمہ ہوا اس کے بعد سیدنا یوشع بن نون کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ اگلا سفر صرف سیدنا موسیٰ اور سیدنا خضر نے کیا تھا۔ شاید سیدنا موسیٰؑ نے سیدنا یوشع کو واپس بھیج دیا ہو۔
[63] خضر نے کشی کا تختہ کیوں توڑا؟
کشی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر ان دونوں سے کرایہ بھی نہ لیا اور کشتی میں سوار کر لیا۔ مگر جب یہ کشتی منزل مقصود کے قریب پہنچی تو سیدنا خضر نے کشتی کے پہلو سے ایک تختہ توڑ دیا۔ یہ شگاف نیچے پیندے میں نہ ڈالا گیا تھا۔ اس لیے کشتی جو پہلے ہی منزل مقصود پر پہنچنے والی تھی ڈوبنے سے تو بچ گئی مگر ڈوبنے کا خطرہ ضرور تھا اور سیدنا موسیٰؑ کا اعتراض صرف اس بنیاد پر نہ تھا کہ کشی والے ڈوب جائیں گے بلکہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ کشتی والوں نے تو یہ احسان کیا کہ کرایہ بھی نہ لیا اور اس احسان کا بدلہ یوں دے رہے ہو کہ کشتی ہی کو عیب دار بنا دیا۔