وَ اِذۡ قَالَ مُوۡسٰی لِفَتٰىہُ لَاۤ اَبۡرَحُ حَتّٰۤی اَبۡلُغَ مَجۡمَعَ الۡبَحۡرَیۡنِ اَوۡ اَمۡضِیَ حُقُبًا ﴿۶۰﴾
اور جب موسیٰ نے اپنے جوان سے کہا میں نہیں ہٹوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے ملنے کے مقام پر پہنچ جاؤں، یا مدتوں چلتا رہوں۔
En
اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں
En
جب کہ موسیٰ نے اپنے نوجوان سے کہا کہ میں تو چلتا ہی رہوں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچوں، خواه مجھے سالہا سال چلنا پڑے
En
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
60۔ اور (وہ قصہ بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے [58] اپنے خادم سے کہا: ”میں تو چلتا ہی جاؤں گا تا آنکہ دو دریاؤں کے سنگم [59] پر نہ پہنچ جاؤں یا پھر میں مدتوں چلتا ہی رہوں گا۔
[58] سیدنا موسیٰ کا اپنے آپ کو سب سے بڑا عالم قرار دینا:۔
یہاں سے اب قصہ موسیٰؑ و خضر کا آغاز ہو رہا ہے جو قریش مکہ کا دوسرا سوال تھا۔ اس کی تشریح کے لیے بخاری شریف کی درجہ ذیل دو احادیث ملاحظہ فرمائیے۔
1۔
1۔
اللہ کی طرف سے اس کے بندہ (خضر) سے کسب فیض کا حکم:۔
سیدنا سعید بن جبیرؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباسؓ کو کہا کہ نوف بکالی (کعب احبار کا بیٹا) کہتا ہے کہ جو موسیٰؑ خضر سے ملنے گئے تھے وہ بنی اسرائیل کے موسیٰؑ نہ تھے۔ (بلکہ وہ موسیٰ بن افراثیم بن یوسف تھے) تو ابن عباسؓ کہنے لگے: وہ اللہ کا دشمن جھوٹ بکتا ہے میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک دفعہ موسیٰؑ نے کھڑے ہو کر خطبہ سنایا (سامعین میں سے) کسی نے پوچھا ”اس وقت لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟“ موسیٰؑ نے کہا ’میں‘ اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انھیں یہ بات اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے تھی چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی کی کہ دو دریاؤں کے سنگھم پر میرا ایک بندہ (خضر) ہے جو تم سے زیادہ عالم ہے۔ موسیٰؑ نے عرض کی 'میں اسے کیسے مل سکتا ہوں؟' فرمایا: 'اپنے ساتھ ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لو جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں وہ بندہ ملے گا' چنانچہ موسیٰؑ نے ایک مچھلی اپنی زنبیل میں رکھ لی اور وہ خود اور ان کا خادم یوشع بن نون سفر پر روانہ ہوئے تا آنکہ وہ (راستہ میں) ایک چٹان پر پہنچے، وہاں وہ اس چٹان پر اپنا سر رکھ کر سو گئے اس وقت وہ مچھلی زنبیل میں سے تڑپ کر نکلی اور دریا میں جا گری اور سرنگ کی طرح کا بنا ہوا رستہ چھوڑ گئی اور اللہ تعالیٰ نے اس رستہ سے پانی کی روانی کو روک دیا اور وہ راستہ ایک طاق کی طرح دریا میں بنا رہ گیا۔ جب موسیٰؑ بیدار ہوئے تو ان کا خادم (جو یہ منظر دیکھ رہا تھا) انھیں اس واقعہ کی اطلاع دینا بھول گیا اور وہ پھر سفر پر چل کھڑے ہوئے وہ دن کا باقی حصہ اور رات بھی چلتے رہے۔
قصہ موسیٰؑ وخضرؑ سے ملاقات اور ہمراہی شرط:۔
دوسرے دن صبح موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا ’کھانا لاؤ ہم تو اس سفر سے بہت تھک گئے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’موسیٰؑ کو تھکن اس وقت سے شروع ہوئی جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے جہاں تک جانے کا اللہ نے انھیں حکم دیا تھا‘ یوشع نے موسیٰؑ کو جواب دیا: ’دیکھئے کل جب ہم نے چٹان کے پاس دم لیا تھا تو اس وقت مچھلی عجیب طرح کا راستہ بناتی ہوئی دریا میں چلی گئی تھی اور شیطان نے مجھے ایسا بھلایا کہ اس واقعہ کو آپ سے ذکر کرنا مجھے یاد ہی نہ رہا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’مچھلی نے جو یہ سرنگ جیسا راستہ بنایا تھا وہ ان دونوں کے لیے بڑا باعث تعجب تھا‘۔ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا: کہ ’وہی جگہ تو ہماری منزل مقصود تھی‘ چنانچہ وہ دونوں اپنے نقوش پا کو دیکھتے دیکھتے واپس اسی چٹان تک آ گئے۔ وہاں انہوں نے ایک شخص کو کپڑا اوڑھے دیکھا تو موسیٰؑ نے اسے سلام کہا تو سیدنا خضر نے کہا ’تمہارے ملک میں سلام کہاں سے آیا؟‘ موسیٰؑ نے کہا ’میں موسیٰ ہوں‘ سیدنا خضر نے کہا ’بنی اسرائیل کے موسیٰ؟‘ موسیٰؑ نے جواب دیا ’ہاں، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ اللہ نے آپ کو بھلائی کی باتیں سکھائی ہیں ان میں سے کچھ مجھے بھی سکھا دیں‘ سیدنا خضر نے جواب دیا۔ ’موسیٰ دیکھو! اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم میں سے ایک علم مجھے سکھایا ہے جسے آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کو سکھایا ہے جسے میں نہیں جانتا لہٰذا تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کر سکو گے‘ موسیٰؑ نے جواب دیا ’میں ان شاء اللہ صبر کروں گا اور کسی معاملہ میں آپ سے اختلاف نہ کروں گا‘ سیدنا خضر نے کہا ’اگر میرے ساتھ چلنا ہے تو پھر مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا تا آنکہ میں خود ہی اس کی حقیقت آپ سے بیان نہ کر دوں‘
سیدنا خضر کا کشی کا تختہ اکھیڑنا اور سیدنا موسیٰ کا اعتراض:۔
(یہ معاہدہ طے پانے کے بعد) وہ دریا کے کنارے کنارے چل کھڑے ہوئے کہ ان کا گزر ایک کشتی پر ہوا انہوں نے کشتی والوں سے کہا کہ ہمیں بھی سوار کر لو کشتی والوں نے سیدنا خضر کو پہچان کر بغیر کرایہ ہی سوار کر لیا ابھی کشتی میں سوار ہوئے ہی تھے کہ سیدنا خضر نے اپنا بسولا لے کر اس کشتی کا ایک پھٹہ توڑ دیا اور اسے عیب دار بنا دیا۔ موسیٰؑ کہنے لگے کہ 'ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر کرایہ لیے کشتی پر بٹھا لیا اور آپ نے ان کی کشتی کو توڑ دیا کہ سب کشتی والوں کو ڈبو دو، یہ تم نے کیا عجیب حرکت کی؟' سیدنا خضر نے جواب دیا ”میں نے آپ کو کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے“ موسیٰؑ نے کہا: ”مجھ سے بھول ہو گئی آپ درگزر کیجئے اور میرا کام مجھ پر دشوار نہ بنائیے“
موسیؑ و خضر دونوں کے علم کے مقابلہ میں اللہ کے علم کی وسعت:۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بلا شبہ پہلا اعتراض موسیٰؑ نے بھول کر کیا تھا۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتنے میں ایک چڑیا آئی جس نے کشتی کے کنارے پر بیٹھ کر دریا میں سے اپنی چونچ میں پانی لیا جسے دیکھ کر سیدنا خضر نے موسیٰؑ سے کہا: ’اللہ کے علم کے مقابلہ میں میرا علم اور آپ کا علم دونوں مل کر اتنے ہی ہیں جیسے اس چڑیا نے اس دریا میں سے چونچ سے پانی لیا ہے‘
خضر کا ایک نوجوان کو مارنا ڈالنا اور موسیٰؑ کا دوسرا اعتراض:۔
پھر وہ دونوں کشتی سے نکل آئے اور ساحل پر چلتے گئے راستہ میں سیدنا خضر نے ایک لڑکے کو دیکھا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر کھیل رہا تھا۔ سیدنا خضر نے اس لڑکے کے سر کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر مروڑا جو دیا تو اسے مار ہی ڈالا۔ موسیٰؑ کہنے لگے، ’ارے بھائی آپ نے ایک پاکیزہ جان کو ناحق ہی مار ڈالا یہ تو آپ نے بہت برا کیا‘ سیدنا خضر کہنے لگے ’میں نے آپ کو کہا نہ تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہ کر سکیں گے؟‘ آپ نے فرمایا ’اور یہ کام تو پہلے کام سے بھی سخت تر تھا۔‘ موسیٰؑ کہنے لگے اگر آئندہ بھی میں نے آپ پر کوئی اعتراض کیا تو بے شک مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا کیونکہ آپ کی طرف سے مجھ پر اتمام حجت ہو جائے گا۔
خضر کا دیوار مرمت کر دینا اور موسیٰؑ کا تیسرا اعتراض:۔
پھر وہ دونوں چل کھڑے ہوئے تا آنکہ وہ ایک بستی میں پہنچے اور بستی والوں سے کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے انھیں کچھ بھی کھانے کو نہ دیا۔ اتفاق سے انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو گرا ہی چاہتی تھی۔ سدنا خضر نے اس دیوار کو قائم کر دیا۔ موسیٰؑ نے کہا: ’ان لوگوں نے نہ تو ہمیں کھانا دیا اور نہ ضیافت کی اگر آپ چاہتے تو ان سے آپ دیوار قائم کرنے کی مزدوری بھی لے سکتے تھے (جس سے ہم کھانا کھا سکتے)‘ سیدنا خضر کہنے لگے ’بس اب جدائی کی گھڑی آن پہنچی اب میں آپ کو ان واقعات کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کر سکے‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’ہم تو چاہتے تھے کہ موسیٰؑ صبر کیے جاتے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے اور زیادہ حالات ہم سے بیان کرتا‘ [بخاري۔ كتاب التفسير سوره الكهف]
مذکورہ تین واقعات کی تاویل:۔
اس سے اگلی حدیث میں ان واقعات کی تاویل کا یوں ذکر ہے کہ سیدنا خضر نے موسیٰؑ سے کہا: کشتی کو عیب دار کرنے سے میری غرض یہ تھی کہ جب یہ کشتی اس ظالم بادشاہ کے سامنے جائے تو وہ اسے عیب دار سمجھ کر چھوڑ دے اور کشتی والے پھر سے اسے درست کر لیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ دوسرے واقعہ کی تاویل یہ ہے کہ اس لڑکے کے ماں باپ ایمان دار تھے اور لڑکے کی قسمت میں کفر لکھا تھا تو ہم ڈرے کہ کہیں یہ اپنے ماں باپ کو کفر اور سرکشی میں نہ پھنسا دے یعنی لڑکے کی محبت میں والدین بھی کفر میں مبتلا نہ ہو جائیں تو ہم نے چاہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو اور زیادہ اچھا اور پاکیزہ لڑکا عطا کرے اور اس کے ماں باپ اس سے بھی زیادہ اس لڑکے پر مہربان ہوں۔ [بخاري۔ كتاب التفسير۔ ترمذي، ابواب التفسير]
[59] سیدنا موسیٰ کونسے دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے؟
یہ واقعہ سیدنا موسیٰؑ کی زندگی کے کس دور میں پیش آیا اور وہ دو دریا کون سے تھے؟ ان سوالات کے جوابات سے کتاب و سنت خاموش ہیں۔ سیدنا موسیٰؑ کے بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر لے جانے کے بعد اس قصہ اور اس طرح کے سفر کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔ لہٰذا اغلب خیال یہ ہے کہ یہ واقعہ مصر ہی میں پیش آیا ہو گا اور مصر میں دریاؤں کا سنگھم ایک ہی ہے اور وہ ہے موجودہ شہر خرطوم جہاں دریائے نیل کی دو شاخیں بحر ابیض اور بحر ازرق آپس میں ملتی ہیں چونکہ یہ سنگھم کا علاقہ بھی کوئی مخصوص مقام نہ تھا بلکہ میلوں میں پھیلا ہوا تھا۔ لہٰذا سیدنا موسیٰؑ کو بذریعہ وحی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ایک مچھلی تل کر اپنے توشہ دان میں رکھ لیں جس مقام پر جا کر یہ مچھلی زندہ ہو کر دریا کے پانی میں چھلانگ لگا دے بس وہی مقام ہے جہاں تمہاری ہمارے بندے سیدنا خضر سے ملاقات ہو گی۔