اور جس دن فرمائے گا پکارو میرے ان شریکوں کو جو تم نے گمان کر رکھے تھے، سو وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہلاکت کی جگہ بنا دیں گے۔
En
اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے
اور جس دن وه فرمائے گا کہ تمہارے خیال میں جو میرے شریک تھے انہیں پکارو! یہ پکاریں گے لیکن ان میں سے کوئی بھی جواب نہ دے گا ہم ان کے درمیان ہلاکت کا سامان کردیں گے
En
52۔ اور جس دن اللہ تعالیٰ (مشرکوں سے) فرمائے گا: ان معبودوں کو تو بلاؤ جنہیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے“ وہ انھیں پکاریں گے تو سہی مگر وہ (معبود) انھیں کوئی جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان [51] ہلاکت کا گڑھا بنا دیں گے۔
[51] یعنی مشرکوں اور ان کے معبودوں کے درمیان ایک گہری خندق بنا دیں گے جس میں آگ بھڑک رہی ہو گی۔ اس طرح نہ عابد اپنے معبودوں سے کوئی تعلق قائم کر سکیں گے اور نہ معبود اپنے پیروکاروں سے، اور اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم ان عابد و معبود کے درمیان سخت عداوت ڈال دیں گے۔ دنیا میں تو عابد ان کی بہت عزت و احترام کرتے تھے اور انھیں خدائی کا درجہ دے رکھا تھا مگر اس دن وہ ان کے بد ترین دشمن بن جائیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی کی وجہ سے ہم مبتلائے عذاب ہوئے ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔