25۔ وہ نوجوان اپنے غار میں تین سو سال ٹھہرے رہے اور (کچھ لوگوں نے) نو سال [25] زیادہ شمار کئے۔
[25] اصحاب کہف کے غار میں سونے کی مدت:۔
یہ مدت شمسی تقویم کا حساب رکھنے والوں کے مطابق تین سو سال تھی اور قمری تقویم کا حساب رکھنے والوں کے مطابق تین سو نو سال تھی۔ اس آیت میں مذکور مدت اس لحاظ سے تو ٹھیک ہے کہ اگر مہینوں اور دنوں کی کسور کو چھوڑ دیا جائے تو تین سو شمسی سالوں کے قمری سال تین سو نو ہی بنتے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ مدت کی تعیین اللہ کا کلام ہے یا لوگوں کے اقوال ہیں جو یہاں اللہ تعالیٰ نے حکایتاً نقل فرمائے ہیں تو اس کا واضح جواب یہ ہے کہ یہ لوگوں کے اقوال ہیں اگر یہ اللہ کا قول ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس سے اگلی آیت میں یوں نہ فرماتے کہ ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی مدت وہ (غار میں) ٹھہرے رہے“
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔