ترجمہ و تفسیر کیلانی — سورۃ الكهف (18) — آیت 107

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَانَتۡ لَہُمۡ جَنّٰتُ الۡفِرۡدَوۡسِ نُزُلًا ﴿۱۰۷﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے فردوس کے باغ مہمانی ہوں گے۔ En
جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے
En
جو لوگ ایمان ﻻئے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے یقیناً ان کے لئے الفردوس کے باغات کی مہمانی ہے En

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

107۔ البتہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کی مہمانی فردوس کے [87] باغات سے ہو گی۔
[87] جنت کے سب سے اعلیٰ اور بلند تر درجہ کا نام جنت الفردوس ہے جس کے باغات کے درخت گھنے، پربہار اور خوش منظر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ جب کبھی اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کیا کرو۔ [بخاري، كتاب الجهاد، باب درجات المجاهدين فى سبيل الله]